ایک آنسو بھی حکومت کے لیے خطرہ ہے

اکلیم الحفیظ
ہمارا ملک انیکتا میں ایکتا کی مثال تھا۔یہاں بقائے باہم کا نظریہ تھا کہ جیو اور جینے دو۔ہمارا سیکولرزم بھی دنیا میں ایک مثال تھا جس کے تحت تمام مذاہب آزاد تھے اور ان میں سدبھائونا کا رشتا تھا۔یہاں عید اور ہولی کے تیوہار ایک ساتھ منائے جاتے تھے۔یہاں گائوں میں چھپر اٹھانے میں ہندو مسلمان ایک ساتھ تھے۔ایک حقہ کی ’نے‘ سے تمام لوگ کش بھرتے اور زندگی کالطف لیتے تھے ۔ہمارا دل بھی بڑا تھا اور دسترخوان بھی وسیع تھا۔یہی وجہ ہے کہ یہاں جو بھی آیا وہ یہیں کا ہوکر رہ گیا۔یہاںشری رام چندر جی کے ماننے والوں نے حضرت محمد (ﷺ) کا نام لینے والوں کا استقبال کیا تھا۔یہاں خواجہ غریب نواز ؒ تھے جن کے دربار میں سب یکساں تھے۔یہاں نظام الدین اولیا ء تھے جن کے دسترخوان پر سب ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔
مگر آزادی کی تحریک کے پس پردہ ایک ایسی تحریک نے بھی جنم لیا جس کے ممبران نسلی برتری کا شکار تھے جس کے نزدیک انسان پیدائشی طور پر چھوٹا اور بڑا ہوتا ہے۔جس کے نتیجہ میںیہاں ادنیٰ اور اعلیٰ کا فرق ہونے لگا ،آہستہ آہستہ اصلی اور نقلی راشٹرواد کا بگل بجایا گیا، ایک کلچر اور ایک زبان کا شوشہ چھوڑا گیا،دل تنگ ہوگئے ،NRCکا دیو آگیا اور لوگ اپنے ہی ملک میں بن بلائے مہمان بنا دیے گئے،وہی دھرتی ماں جس نے آریوں،مسلمانوںاور انگریزوں کا استقبال کیا تھا اسی دھرتی ماں کا دامن سمٹ گیا۔تفریق اور نفرت کی سیاست نے ماب لنچنگ کے نام پر سینکڑوں انسانوں کا قتل کرادیا۔انسانوں کی بھیڑ نے اپنے ہی جیسے انسان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا ۔ہماری وسیع القلبی اور ہم مشربی منھ دیکھتی رہ گئی،پریم چند کے افسانوں کے سچے کردار منھ چھپانے لگے۔آخر جس ملک کی مثال رواداری،تحمل اور برداشت کے لیے دی جاتی تھی وہی ملک اب نفرت،تفریق اور عدم برداشت کی پہچان بن گیا ۔
کوئی ملک اپنی سرحدوں سے نہیں بلکہ اپنے رویوں سے پہچانا جاتا ہے۔ ملک کی تصویر اس کے عوام کی اخلاقی اور مالی صورت حال سے بنتی اور بگڑتی ہے۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ سرکاری کمپنیاں سرکارکی بے وفائی کے سبب بند ہورہی ہیں،سالانہ دوکروڑ لوگوں کو نوکری دینے کا وعدہ کرنے والے اب تک کروڑوں لوگوں کو بے روزگار کرچکے ہیں۔ہر شخص کے اکائونٹ میں پندرہ لاکھ بھیجنے کے بجائے بینک ڈوب رہے ہیں اور لوگوں کو اپنی ہی رقم نکالنے کے لالے پڑ رہے ہیں،روپے کی قدر کم ہوتی جارہی ہے،GDPپانچ فیصد سے بھی کم ہوگئی ہے۔نوٹ بندی اور GSTکی غلط پالیسی کے سبب کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں۔
آزادی کے بعد سے ہی یوں تو ملک کے مختلف حصوں میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم کیا جانے لگا۔مگر خاص طور پر کشمیر میں گزشتہ 30سال سے آگ اور خون کا کھیل جاری ہے۔ایک لاکھ انسان سے زیادہ انسان تہہ تیغ کیے گئے،ہزاروں عصمتیں پامال ہوئیں۔مگر موجودہ حکومت نے 5اگست کو انسانیت،جمہوریت اور آئین کی جو دھجیاں بکھیری ہیںاس نے ملک کی شبیہ کو انتہائی خراب کردیا ہے۔مزید اقوام متحدہ میں سربراہان کی تقاریر،اور مغربی میڈیا کے بڑے اخبارات کا ہندوستان کے تعلق سےLOCK DOWN اورBLOOD BATHکے اندیشوں کو اجاگر کرنے نے اس شبیہ کو مزید خراب کیا ہے۔حد تو جب ہوگئی جب ملک کا وزیر داخلہ پبلک اسٹیج سے مسلم دشمنی کا نعرہ بلند کررہا ہے،اسے انسانی اقدار کا کچھ پاس ہے اور نہ اس آئین کا جس پر ہاتھ رکھ کر اس نے حلف اٹھایاتھا۔کشمیر دشمنی میں ہم یہ بھی بھول گئے کہ مسلم دنیا سے ملک کو کئی پہلو سے بڑے فائدے ہیں ۔تقریباً ایک کروڑ تیس لاکھ سے زیادہ ہندوستانی شہری مسلم ممالک میں روزگار اور ملازمت کررہے ہیں اور ہزاروں کروڑ روپے غیر ملکی زرمبادلہ کی شکل میں ہمیں حاصل ہورہا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں 41لاکھ ،عرب امارات میں 35لاکھ،ملیشیا میں 21لاکھ،کویت اور قطر میں سات سات لاکھ ہندوستانی شہری کام کررہے ہیں باقی دیگر مسلم ممالک میں بھی خاطر خواہ تعداد میں ہیں۔ورلڈ بنک کی 2018کی رپورٹ کے مطابق کل 429بلین ڈالر( 3046000کروڑ روپے) سالانہ زر مبادلہ ملک کو حاصل ہوتا ہے اس میں 79بلین ڈالرFOREIN EXCHANGE CURRENCY(560900 کروڑ روپے غیر ملکی زرمبادلہ) صرف ملازمین کی سلیری اور مزدوری کے طور پر ملک کو حاصل ہوئے،اس میں 67%(375800کروڑ روپے)سالانہ مسلم دنیا کے پانچ ممالک سعودی عرب ،کویت ،قطر،بحرین اور بنگلہ دیش سے حاصل ہوا،ٹرمپ بہادر جس کی محبت میں ہم ساری مان مریادہ بھول گئے ہیں یہاں تک کہ امریکہ کو بھی دہلی کا رام لیلا میدان سمجھ کر ہم نے نعرہ لگادیا’’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘‘اور یہ نہیں سوچا کہ ٹرمپ کے مخالفین اگر جیت گئے تو کیا ہوگا ؟وہاں سے صرف 17%اور انگلینڈ جس کی تقلید میں ہمارے لوگ فخر محسوس کرتے ہیں وہاں سے صرف 5%ہی زر مبادلہ حاصل ہوتا ہے۔
ایکسپورٹ کی دنیا میں ہم جو چیزیں ایکسپورٹ کرتے ہیں اس کی بڑی منڈی بھی مسلم ممالک ہی فراہم کرتے ہیں۔ایک قابل غور پہلو یہ ہے کہ مغربی ممالک میں جو لوگ گئے وہ یا تو وہیں کے ہوکر رہ گئے اور اگر وہ وہاں کے شہری بھی نہ بن سکے تو انھوں نے اپنی دولت کا معمولی حصہ ہی ہندوستان بھیجا۔جب کہ مسلم ممالک میں جو لوگ گئے وہ وہاں کے شہری نہیں بنے اور ان کی صد فی صد دولت ہندوستان میں آئی۔یہ بات بھی اہم ہے کہ مغربی ممالک میں ہمارے ملک کا ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ منتقل ہوا جب کہ مسلم ممالک نے ہمارے مزدوروں کو گلے لگا یا۔ان اعداد و شمارسے واضح ہوتا ہے کہ ملک کی شبیہ بگڑنے سے ہماری معیشت پر برے اثرات پڑ سکتے ہیں اور دوسری طرف ایک کرور تیس لاکھ ہندوستانی شہریوں کے لیے مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیں۔ملک نے اسرائیل دوستی میں جس کمیونلزم کواپنایا ہے اسے یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ اسرائیل پر کس قدر خطرات کے بادل منڈلارہے ہیں۔کوئی اسرائیلی شہری مسلم ممالک میں بغیر سیکوریٹی گارڈ کے سفر نہیں کرسکتا اس لیے کہ اسرائیل نے فلسطینی مسلمانوں کو جو زخم دیے ہیں ان کی ٹیس ہر مومن محسوس کرتا ہے۔ہندوستانی وزیر اعظم عرب ممالک کے اعزازات سے نوازے جانے پر پھولے نہ سمائیں اس لیے کہ ہندوستانی شہریوں کا سابقہ وہاں کے حکمرانوں سے نہیں بلکہ عوام سے پڑتا ہے۔کشمیر میں ہمارے غیر انسانی سلوک اور غیرآئینی اقدام نے پڑوسی ملک کو ہمارے خلاف بولنے اور ماحول بنانے کا موقع فراہم کردیا ہے ۔مغربی ممالک بالخسوص مسلم ممالک کی عوام کشمیر پر ہمارے اقدامات کو باریک بینی سے دیکھ رہی ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کو تکلیف پہنچا کرباقی دنیا کے مسلمانوں کوبھی ہم تکلیف پہنچارہے ہیں ۔ظاہر ہے یہ تکلیف ردعمل کے طور پر اگر ظاہر ہوگئی تو ہمارے لیے ہر طرف مشکلات کھڑی کردے گی ۔
ملک کے حکمرانوں کواپنے فسطائی رویہ کو چھوڑ کر بھارت کی اعلیٰ تہذیبی روایات اور اپنے ’’ وسودھیو کٹمبھکم ‘‘کے نعرے کا پاس و لحاط رکھنا چاہئے۔ستر سال میں اقوام عالم میں ملک کو جو وقار حاصل ہوا تھا اسے گرنے سے بچانا چاہئے۔رعایا میں بھید بھائو اقتدار کے لیے مہلک ثابت ہوتا ہے۔اپنے عوام کو خوشیاں دیجیے ۔ ان کی آنکھ کے آنسوصاف کیجیے ورنہ ایک آنسو بھی سیلاب کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
ایک آنسو بھی حکومت کے لیے خطرہ ہے

تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا

کنوینر انڈین مسلم انٹیلیکچولس فورم
جامعہ نگر ،نئی دہلی
9891929786

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram