صدیوں سے ہندوستان میں عزاداری امام حسینؑ کا اہتمام ہوتا رہا ہے:ڈاکٹرہلال نقوی

ہلال ہائوس علی گڑھ میں مذاکرہ بعنوان’’عزاداری کی تاریخ اور سوز خوانی کا فن‘‘ کا انعقاد

علی گڑھ:ایام عزاکے سلسلے سے انجمنِ تعلیمات حسینی علی گڑھ کی جانب سے ہلال ہائوس نگلہ ملاح سول لائنس علی گڑھ میں ایک مذاکرے کا انعقاد ’’عزاداری کی تاریخ اور سوز خوانی کا فن‘‘کے عنوان سے کیا گیا ۔جس کی صدارت علی گڑھ کے معروف سوز خواں میر کاظم حسین نے کی۔نظامت کے فرائض انجمن محبان اردو علی گڑھ کے جنرل سکریٹری سید محمد عادل فراز نے انجام دیئے۔مذاکرے میں ہندوستان میں عزاداری کی تاریخ پر گفتگو کرتے ہوئے مذاکرے کے کنوینرڈاکٹر ہلال نقوی نے کہا کہ ہندوستا ن اور عزاداری امام حسینؑ کا تعلق بہت پرانا ہے تاریخ شاہد ہے کہ ہندستان میں عزادری جس رنگ اور جذبے کے ساتھ منائی گئی اور آج تک منائی جاتی ہے اس کی مثال دیکھنے کو کہیں نہیں ملتی اگر تاریخ کی ورق گردانی کی جائے تو ہمیں بعض روایتوں سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہاں کے رہنے والوں خاص طور سے موہیال پنڈتوں نے امام حسینؑ کی محبت میں اپنی جان قربان کی اور جنابِ مختار کے ساتھ خونِ حسینؑ کا بدلا لیا ۔یہاں پر تیمور لنگ نے تعزیے کی شروعات کرکے عزاداری کو فروغ دیا اس کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ دکن کے امراء اور اودھ کے نوابین نے عزاداری کو نہایت فروغ دیا یہی روایت علی گڑھ کی سرزمین تک پہنچی تو یہاں بھی مجالس وغیرہ کا انعقاد ہوا خصوصا اہل تصوف نے اس عزاداری کو پروان چڑھایا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے بھی عزاداری کو اپنے کلیجے سے لگا کر امام حسین ؑ کی بارگاہ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا جس کی مثال ہمیں اے ایم یو میں مختلف ہالوں میں ہونے والی مجالس میں ملتی ہے انھیں مجالس کا فیض ہے کہ ان کے توسل سے سوز خوانی کے فن کو بھی فروغ حاصل ہوا اور یہ فن آج بھی علی گڑھ میں اپنی مثال آپ ہے۔میر کاظم حسین نے سوز خوانی کے فن پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ فن قدیم ہے اور خاص طور سے علی گڑھ کی علمی و ادبی سرزمین پر ایک سے ایک نامور سوز خواں حضرات نے وجود پایا جس میں مرحوم و مغفور نواب جانی ،ماسٹر وقیع، میر جعفر حسین اور تقی حسن خاںامروہوی کے نام سرِ فہرست ہیں۔عہد حاضر میں بھی یہ فن اپنے کمال تک پہنچا ہوا ہے اور علی گڑھ کی سرزمین سے تعلق رکھنے والے نئے نسل کے سوز خواں حضرات بھی اس سلسلے سے خدمات انجام دے رہے ہیں میں اس فن کے مستقبل سے پر امید ہوں جب تک عزاداری قائم رہے گی سوز خوانی کافن زندہ رہے گا۔عابد حسین عرف پنو بھائی نے اپنی سوزخوانی کے فن کو دکھاتے ہوئے کلاسیکل انداز میں کئی سوز و سلام پیش کئے اور انھوں نے ہندوستان کے مشہور و معروف سوز خواںاور اپنے والد نواب جانی مرحوم کو یادکرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ فن وراثت میں ملا ہے۔میرے والد بزرگار کسی مجلس میں جانے سے پہلے گھر میں مشق کرتے تھے جس کا میرے ذہن و دل پر گہرا اثر مرتب ہوا اور آج خدا کا شکر ہے کہ میںبھی اس فن میں اپنی خدمات انجام دے رہا ہوں۔مذاکرے میں شامل ہونے والوں میں عین الحسن نقوی،عامر حسین زیدی،سید عادل فراز،عبدا الحفیظ جدران،ذوالفقار زلفی،یوسف ہاتف ،میر محمد عالم اور جعفر رضا روشنؔ وغیرہ وغیرہ پیش پیش رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest