ہندوستان میں یورپ کے مقابلہ داعش کا اثر بہت ہی کم

ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارہ کی وجہ سے شر پسند ناکام رہے :ڈی سی پی کلکرنی

ایک اعلیٰ پولیس افسر نے کہا ہے کہ ہندوستان میں داعش کا اثرانتہائی کم  ہے اور یہاں فرقہ وارانہ ہم آہنگی زیادہ ہے ذات پات اور دھرم کے نا م پر لوگوں میں نفرت پھیلانے والوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ آج یہاں گاندھی جینتی کے موقع پر پریس کلب میں ماہنامہ ’ جہاں کا انصاف‘ کے دوسالہ جشن کے موقع پر ڈی سی پی اے ٹی ایس دھننجے کلکرنی نے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اظہار کیااورکہا کہ شام اور عراق میں چالیس ہزار فوج گئی فرانس برطانیہ سے لوگ داعش میں شامل ہوئے ہیں لیکن ہندوستان کے صرف 93 نوجوانوں نے ہی داعش میں شمولیت اختیار کی ہے
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی بھی زیادہ ہے اس کے باوجود یہاں کے نوجوان داعش کی لعنت سے محفوظ رہے ہیں۔ہندوستان میں مذہبی ماحول ہے عید اور دیوالی اور دوسرے تہواروں میں ہم شریک ہوتے ہیں اس لئے قومی ایکتا کو فروغ دینا ضروری ہے، جرم کے بعد کسی کو گرفتار کرنا کسی کو پسند نہیں ہے اس لئے دہشت گردی کے خلاف ہمیں سینہ سپر ہونے کی ضرورت ہے۔
کلکرنی نے کہا کہ آج کے اس پرفتن دور میں سوشل میڈیا کے ذریعہ نوجوانوں کو ورغلایا جاتا ہے اس کو کاؤنٹر کرنے کے لئے جہاں کا انصاف بہتر خدمات انجام دے رہا ہے۔اس لئے ہمیں اس کا ساتھ دینا چاہئے ہندوستان میں داعش کا وجود انتہائی معدوم ہے، کیونکہ 93 نوجوانوں میں سے 35 نوجوان واپس آگئے ہیں ملک کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحو ل کو مزید تقویت دینے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پرمجلہ ’ جہاں کا انصاف ‘کے ایڈیٹر محمد جاوید شیخ نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہمارے رول ماڈل حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں نہ کہ ابوبکر البغدادی ملاعمر یا حافظ سعید ۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر لڑیں اور ملک کی سلامتی کے لئے نفرت کی سیاست کے خاتمہ کے لئے صف آرا ہونا چاہئے۔اسلام نے تو پورے عالم کو امن کی دعوت دی ہے یہی درس ہر مسلمان دیتاہے ،لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کو شک کی نظروں سے دیکھا جارہا ہے اورفرقہ پرست اس پر سیاست کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اے ٹی ایس چیف اتل چندر کلکرنی نے کئی نوجوانوں کو راہ راست پر لایا ہے اس ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے داعش کے خلاف جہاں کا انصاف ویب سائٹ جاری کی گئی ہے۔
مفتی منظو ضیائی نے کہا کہ جہاں کا انصاف نے جوکام شروع کیا ہے وہ قابل ستائش ہے اور داعش کے مکر و فریب سے لوگوں کو آگاہ کررہا ہے ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ آقا نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر زندگی گزارنے کی عملی کوشش کرنا چاہئے یہ وقت کا تقاضہ ہے اس لئے اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
حاجی علی اور ماہم درگاہ کے ٹرسٹی سہیل کھنڈوانی نے کہا کہ درگاہ انتظامیہ ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتی ہے اور اس کے لئے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کو بھی درگاہ انتظامیہ استعمال کررہی ہے تاکہ دہشت گردوں اور داعش کے مکر و فریب کو بے نقاب کیا جائے اس لئے ہم جہاں کے انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں۔
سنیئر صحافی خلیل زاہد نے کہا کہ جہاں کا انصاف کو مزید تقویت کے ساتھ چلانے کی ضرورت ہے اس لئے ہمیں اس کاساتھ دینا چاہئے۔ رکن اسمبلی کانگریس امین پٹیل نے کہا کہ ایسے حالات میں سوشل میڈیا کے ذریعہ ہمیں دہشت گردی کے خلاف کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جو کام جہاں کا انصاف کر رہا ہے اس سے بہتر کوئی کام نہیں ہے اس لئے ہم اس کی کاوشوں کی ستائش کرتے ہیں۔ اے ٹی ایس تو دہشت گردی کے خلاف کام کررہی ہے لیکن اس جوکام جہاں کا انصاف کر رہا ہے و ہ بھی قطع نظر نہیں کی جاسکتی قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ہمیں ماحول بنانے کی ضرورت ہے آج یہی وقت کا تقاضہ ہے اس لئے ہمیں فرقہ پرستوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ اس تقریب سے نظام الدین راعین اور سماج وادی پارٹی کے کارپوریٹر رئیس شیخ نے بھی خطاب کیا۔ ایم این ایس کے صدر حاجی سیف، اردو ٹائمزکی روح رواں قمر النسا سعید ، ایم اے خالد ویگر معززین شامل تھے۔ جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف مہم میں جاوید شیخ کو مکمل تعاون دینے کا یقین دلایا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest