ہندوستان کی مٹی کی بھینی بھینی خوشبوُ کو مٹایانہیں جاسکتا ہے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

جاوید جمال الدین
ہمارا ملک ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں اختلافات کے باوجود ہمیشہ سے لوگ مل جل کر رہتے رہے ہیں اور یہ دنیا کے سامنے ایک مثال رہی ہے ۔جبکہ ممبئی بھی ایک ملی جلی تہذیب اور تمدن کا شہر رہا ہے حالانکہ اس کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے ،لیکن گزشتہ ڈیڑھ دوسال کے دوران اس شہر نے ہندوستان کو اپنے اندرسمو لیا ہے ۔جنوبی ممبئی میں واقع پالکھی والا عمارت کی پانچویں منزل پر جب میں نے آنکھ کھولی تو ہمارے پڑوسی سیتاپور اترپردیش کے ایک پنڈت جی ،جن کا سر نیم واجپئی تھا،کا خاندان رہائش پذیر تھا اور کبھی ایسا نہیں محسوس ہوا کہ ان کے بچوںاور ہم میں کوئی فرق ہو ،والدین جب حج پر گئے تو پنڈت جی جوکہ قریبی گودی کے بحری جہازوں میں کتابیں فروخت کرتے تھے ،بلا کوئی رکاوٹ سے ہمیں حاجیوں کے بحری جہاز پر لے جاتے رہے اور یہ سلسلہ دن بھر چلتا رہا ،مجھے بچپن کا وہ واقعہ بھی یاد ہے ،جب ہماری چچی امی کا انتقال ہوا توپنڈت جی کا پورا خاندان ہمارے ساتھ سوگوار تھا،بلکہ پنڈت جی جنازے کے آگے آگے چل رہے تھے اور ان کے ہاتھوں میں گیس بتی تھی ،تاکہ قبرستان میں تدفین کے دوران دشواری نہ پیش آئے اور وہ زاروقطار رورہے تھے۔یہ حقیقت بیانی ہے اور اس سے منہ نہیں موڑا جاسکتا ہے ،جوکہ اس عظیم ملک کے اتحاد واتفاق اور بھائی چارہ کی داستان سنا تی ہے۔
حال کے چند برسوں میں بی جے پی اور اس کی ہمنوا تنظیمیوں نے جو ماحول بنانے کی کوشش کی ہے اور فی الحال شمال ہندمیں اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر کو لیکر جو تحریکیں اور مہم شروع کی جارہی ہیں اور درپردہ ارباب اقتدار ان کی حمایت کررہے ہیں وہ قابل مذمت ہے ،لیکن یہ سوچ لینا چاہئے کہ اس ملک کے لوگ ہمیشہ ہم آہنگی اور مل جل کر رہنے کا عادی رہا ہے ،تب بھی کرناٹک کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو منہ کی کھانی پڑی ہے ،اگر عوام یعنی رائے دہندگان نے سوچ سمجھ کر اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا تو راجستھان ،مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ اسمبلی انتخابات کے نتائج بی جے پی کے ہوش ٹھکانے لگاسکتے ہیں ،کیونکہ ملک عدم تشدد،امن اور بھائی چارے کی روایت پر یقین رکھنے والوں کا ملک رہا ہے ،یہاں کی اکثریت ہمیشہ سے صلح پسند اور امن پسند رہی ہے اور یہ ہندوستان کی روایات میں شامل ہے جوکہ صدیوں پرانی روایت کا حصہ ہے ،اسی بھائی چارہ کی وجہ سے ہندوستان کا دنیا کے سب سے بڑے سیکولراور جمہوری ملک میں شمار کیا جاتا ہے اور ہم اس سچائی سے منہ نہیں موڑسکتے ہیں کہ بقول علامہ اقبال کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری۔۔۔۔اور اسے عالمی سطح پر ایک مخصوص مقام حاصل ہے۔اسی طرز کا بیان تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ نے کئی سال پہلے شمالی ہندوستان میں کسی الیکشن کے نتائج کے بعد کہے تھے ،جس میں سیکولرمحاذ کو کامیابی ملی تھی۔
ہندوستان میں کشمیر تا کنیا کماری عوام جس انداز میں مل جل کررہائش پذیر ہیں ،وہ ایک مثال ہی ہے ،ملک کے وسیع تر علاقے میں علیحدہ علیحدہ مذاہب،زبان ،بولی اور تہذیب کے لوگ ایک دوسرے کے تہواروں اور رسموں میں حصہ لیتے ہیں ،وہ اس ملک کا حسن ہے اور اسی وجہ سے ملک کی جمہوریت اور سیکولرزم کی بقا ممکن ہوسکی ہے۔ملک میں آج ماحول بی جے پی کے چھٹ بھیا لیڈر بنانے کی کوشش کررہے ہیں اور اعلیٰ لیڈرشپ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ،وہ افسوس ناک امر ہے ،کیونکہ عالمی سطح پر میڈیا ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا نے تیزی سے لوگوں کے ذہن میں اپنی جگہ بنالی ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ارباب اقتدار پھونک پھونک کر قدم رکھیں۔مدھیہ پردیش ،راجستھان،چھتیس گڑھ اور تلنگانہ کے اسمبلی انتخابات کے دوران ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کے تانے بانے کو جس انداز میں نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے ،اسے عام آدمی یا رائے دہندگان کو روکنا ہوگا کیونکہ ملک کے سیاستدانوں نے ووٹ کی سیاست کے دوران عام طورپر الیکشن کو اقلیت بمقابلہ اکثریت کے ساتھ ساتھ ذات پات کے درجوں میں تقسیم کردیا ہے اور اپنے امیدوار بھی اسی بنیاد پر منتخب کرتے ہیں اور ایک ایسا نظام تشکیل دیا گیا ہے جس کے سبھی محتاج بن چکے ہیں ،جس کے سامنے سیکولرزم کی دہائی دینے والے محتاج بن جاتے ہیں۔حال میں کانگریس لیڈرشپ نے نرم ہندوتوا کے سلسلہ میں کئی لیڈروںکے بیانات جاری کرائے ،اس کی شروعات کانگریس نے تین عشرے قبل ہی کردی تھی ،کانگریس کی لیڈرشپ اپنے کسی لیڈر کے بی جے پی اور سنگھ پریوار کے خلاف سخت ترین بیان سے اپنا پلڑا جھاڑلیتی ہے ،گجرات سے کانگریس صدر راہل گاندھی کے ذریعہ جگہ جگہ منادر میں جانے کا سلسلہ کرناٹک اور ان تینوں ریاستوںمیں جاری وساری ہے ۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ فی الحال مسلمان ووٹوں کو بہت زیادہ اہمیت دینے کے حق میں نہیں ہیں۔حالانکہ ان کی اہمیت سمجھتے ہیں۔
کانگریس پر ووٹ بینک اور منہ بھرآئی کا الزام ہمیشہ لگایا جاتا رہا ہے اور اس نے دیدہ دلیری سے اس کا مقابلہ بھی کیا ،لیکن حال کے دنوں میں کانگریس اب اس بوجھ کو اٹھانے کے لیے تیار نظرنہیں آتی ہے ،کانگریس نے اقلیتوںاور خصوصاً مسلمانوں کے لیے سماجی ،تعلیمی اور معاشی بہتری کے لیے کئی منصوبے بنائے ،لیکن پتہ نہیں اس میں نیک نیتی نہیں تھی یا بیوروکریسی کی کوتاہی کے سبب ان پالیسیوں کو پٹری پرنہیں لاسکی اوراسے اقلیتی فرقے کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا ،یہی وجہ ہے کہ 1992میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد سے کانگریس اترپردیش میں اقتدار سے محروم ہے اور مرکزی سطح پر بھی واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکی ہے۔کانگریس ہی نہیں دیگر سیکولر پارٹی بھی اقلیتی فرقے کی حمایت کے بجائے اسے نصحیت دینے کے چکر میں پھنس چکی ہیں۔
کانگریس کی کوشش سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے ،لیکن لاپروائی اور کوتاہی اس کی عادت بنی رہی ہے، اس تعلق سے مہاراشٹر کی مثال دی جاسکتی ہے کہ 2014میں جب اسمبلی الیکشن کو محض چھ ماہ رہ گئے تھے تو کانگریس ۔این سی پی محاذ حکومت نے مراٹھا فرقے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو بھی تعلیمی اور ملازمتوں کے لیے پانچ فیصد ریزرویشن دینے کا اعلان کردیا اور ایک آرڈننس بھی جاری کردیا ،اتفاق سے بمبئی ہائی کورٹ نے مراٹھا ریزرویشن کو مسترد کردیا اور مسلمانوں کو تعلیمی میدان میں پانچ فیصد ریزرویشن دینے کے فیصلہ پرمہرثبت کردی ،لیکن موجودہ بی جے پی محاذ سرکار نے اس آرڈننس کو تجدید نہیں کی اور اس کی حیثیت ختم ہوگئی ،کیونکہ بی جے پی مذہب کے نام پر ریزرویشن دینے کے حق میں نہیں ہے ،لیکن حال میں فڑنویس حکومت نے مراٹھا فرقے کو ریزرویشن دینے کا ایک بار پھر فیصلہ کیا ہے جوکہ مسلمانوں سے سراسرناانصافی ہے ،کانگریس کی کوتاہی یہ ہوئی کہ اس نے چھ مہینے کے بجائے ایک دوسال قبل اسمبلی میںبل پیش کرکے قانون بنانا تھا،کانگریس نے دوسری رپورٹوں کے ساتھ ساتھ جسٹس سچرکمیشن کی رپورٹ کی سفارشات پر کوئی عمل نہیں کیا جیسا کہ 1992-93میں ممبئی کے خونریز فسادات کی تحقیقاتی رپورٹ کو سرد خانہ میں ڈال دیا حالانکہ 1999کے اسمبلی الیکشن کے مینی فیسٹومیں شامل کیا گیا تھا۔
ملک میں جمہوریت اور سیکولرزم کی بقا کے لیے کانگریس کو کمرکس لینا ہوگا اور کہیں جھکنا بھی ہوگا،جیسا کرناٹک میں جھکنا پڑا ہے اور ایک ام یہ کرنا ہے کہ بڑبولے لیڈروں کی زبان بندی بھی ضروری ہے کیونکہ دوروز قبل راجستھان کے کسی جوشی مہاشے نے بیان داغ دیا ہے کہ ’’بابری مسجد کا تالا بھی کانگریس نے کھولا تھا اور ،رام مندر کی تعمیر بھی اسی کے دورمیں ہوگی ۔‘‘یہ بیانات کانگریس کے لیے زہر ثابت ہوسکتے ہیں اور پولنگ تک ایسے بڑبولے لیڈروں کو خاموش کردیا جائے ۔اور اقلیتی فرقے کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے سلجھے اور سمجھدار رہنمائوں کو آگے لایاجائے ،ورنہ بی جے پی نے اگر اس بار پٹک دیا تو پھر پانی بھی پینے نہیں دے گی۔صرف عوام ہی اتحاد واتفاق کی اس بھینی بھینی خوشبو کو بچا نے میں اہم رول اداکریں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram