(ہندوووٹ بینک :”کانگریس نیارنگ اور سنگھ کا بدلتا انداز” (جاوید جمال الدین

راہل گاندھی نے کچھ عرصہ قبل سابق وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کے انداز میں ’کانگریس پارٹی کو مسلمانوں کی پارٹی ‘قراردے دیا تھا ،ٹھیک اسی طرح من موہن سنگھ بحیثیت وزیراعظم لال قلعہ کی فصیل سے اعلان کرتے ہوئے نظر آئے تھے کہ ’’ملک کی املاک اور اثاثہ پر پہلا حق مسلمانوں کا ہے۔‘‘مدکورہ بیان پر بی جے پی اور اس کی ہمنوا تنظیموں نے حسب معمول کافی شورمچایا ،کیونکہ بیان وزیراعظم کا تھا ،اس لیے کانگریس ہلکی سی بیک فٹ پر نظرآئی تھی ،لیکن زیادہ بیان بازی نہیں ہوئی تھی ،البتہ راہل گاندھی کے بیان پر پارٹی کی قدآوررہنماء اور ترجمان دفاعی حالت میں نظرآئے ۔
ایسا پہلے بھی ہوچکا ہے ،بلکہ کانگریس کی عادت گئی ہے کہ کانگریس لیڈرشپ کسی بھی کانگریسی لیڈر کے بیان سے اپنا پلڑا جھاڑلیتی ہے اور اسے لیڈر کا ذاتی بیان قراردے دیا جاتا ہے۔ماضی میں جھانکا جائے تو اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ آنجہانی شنکر رائوچوان نے ایک بارنرسمہارائو کے دورحکومت میں پاکستان سے خطرناک دشمن چین کوقراردیا تھا اور سابق وزیر داخلہ شیوراج پاٹل نے من موہن سنگھ کے دورمیں ملک میں بھگوا دہشت گردی کے بارے میں بیان دے دیا، جس کی وجہ سے ملک بھر میں واویلا مچ گیا ،بی جے پی کے احتجاج کے دوران ہی کانگریس نے اس بیان سے فاصلہ اختیار کرلیا تھا،اسی طرح حال میں منی شنکر ایئر،ششی تھروراور جے رام رمیش کے ساتھ ساتھ کئی اعلیٰ لیڈروں کے بیانات پرکنارہ کشی کرتے ہوئے کانگریس نے عجیب وغریب حرکتیں کی ہیں۔کانگریس کے بارے میں کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ وہ حالات سے سہمی ہوئی ہے اور کسی بھی تنازع میں پڑنے سے گریزکرتی ہے۔
کانگریس نے پہلے گجرات اسمبلی انتخابات میں اور حال میں کرناٹک کی انتخابی مہم کے دوران کوئی مندر ایسا نہیں چھوڑا ،جہاں راہل گاندھی کو درشن نہیں کے لیے لے جایا گیانہیں ،جبکہ گجرات میں تو راہل گاندھی نے انتخابی مہم میں اقلیتوںخصوصاً مسلمانوں کے حق میں ایک چھوٹا سابھی بیان دینے سے احتراز کیا ،کرناٹک میں بھی یہی حال رہا ،لیکن جب شکست سے دوچار ہوئے تو صدر کانگریس راہل گاندھی اب کہنے لگے ہیں کہ’’ کانگریس ایک ایسے ہندوستان میں دلچسپی رکھتی ہے جس میں تمام مذاہب کے لوگ خوشحال ہوں ،ترقی کریں، اور نچلی ذات کے لوگوں کو بے رحمی سے نہ زدوکوب کیا جائے اور نہ ہی ان کو ہلاک کیا جائے۔ کانگریس ایک ایسا ہندوستان چاہتی ہے جس میںتمام لوگ مل کر ملک کو درپیش مستقبل کے چیلنجوں کا سامنا کرسکیں۔‘‘
کانگریس پارٹی کے کوٹہ سے راجیہ سبھا پہنچے معروف صحافی کمار کیتکر نے کہاہے کہ سیکولرازم اور جمہوریت ہماری قومی یکجہتی و ہم آہنگی کے کے دو اہم ستون ہیں ،جنھیں اکھاڑ پھینکنے کی کوششیں کی جاری ہیں، جس وقت یا جس دن اس ملک میں ہندو راشٹر کا قیام عمل میں آئے گا، اس کے کچھ عرصہ بلکہ ایک سال کے اندر یہ ملک ٹوٹ کر بکھر جائیگا، اور اس ملک کی سالمیت باقی نہیں رہے گی۔ہندو راشٹر کے قیام کے نظریہ کی سخت مخالفت کرتے ہوئے انھوں نے انتباہ دیا کہ آئین میں تبدیلی کے بغیر بھی یہ لوگ ہندو راشٹر قائم کرسکتے ہیں، اس لیے بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
لوک سبھا کے 2019میں ہونے والے انتخابات کے مدنظرہر ایک کا لب ولہجہ بدل رہاہے اور حال میں کسی اور کا نہیں بلکہ راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آرایس ایس ) کے سربراہ موہن بھاگوت نے ’’بھاوشیہ کا بھارت ‘‘(مستقبل کا بھارت )کے موضوع پر خطاب اپنا بدلا ہوا انداز اور’بھاشا‘دونوںکو پیش کردیا اب انہیں مسلمان،اقلیتی اور دلت بھی بھلے مانس نظررہے ہیں ۔یہ کہنے میں مبالغہ نہیں ہوگا کہ ’’کچھ بدلے بدلے میرے سرکارنظرآتے ہیں‘‘ ،دراصل اپنی امیج کو درست کرنے کی غرض سے ان کا انداز اور لب ولہجہ تبدیل ہوا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ امریکہ کی متعددانسانی حقوق کی ایجنسیوں اور سرکاری سطح پر اس ضمن میں سرگرم اداروں وتنظیموں نے آرایس ایس کے تعلق سے منفی رپورٹیں پیش کی ہیں ،جس سے ارباب اقتدار اور سنگھ پریوار کو چہرہ مہرہ درست کرنے کی نوبت آگئی ہے۔
اس موقع پر بھاگوت نے ایک عجیب وغریب بات کہہ دی کہ ’’کسی بھی سیاسی پارٹی اور شخصیت سے ان کاکوئی اختلاف نہیں ہے اور بی جے پی کو ان کے ذریعے رائے طلب کیے جانے پر مشورہ دیا جاتا ہے۔دراصل آرایس ایس نے اس بات کو غلط ثابت کرنے کے لیے کہ بی جے پی ان کی سیاسی شاخ ہے ،ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں اور مختلف میدانوںمیں سرگرم عمل شخصیات کو اپنے اس سہ روزہ اجلاس میں مدعوکیا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی چہرے کے نقوش درست کرنے تھے،شکاگو میں جہاں حال میں بھاگوت عالمی ہندوکانفرنس میں تقریر کرنے پہنچے ،تب انہیں وہاں سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اس کے علاوہ کانگریس بھی ہندوئوں کے ووٹ گنوانا نہیں چاہتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ سابق صدرجمہوریہ پرنب مکھرجی کا سنگھ کے ایک اہم اجلاس میں شرکت کرنا ،اس طرح کے اشارے دے گیا کہ کانگریس نے’ ہندوووٹ بینک ‘ کی اہمیت پہچان لی ہے اور ان کی قربت آپس میں مزید بڑھے گی ،کیونکہ جہاں تک مرکز میں نریندرمودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت نے اجودھویا میں رام مندر کی تعمیر اور دیگر کئی وعدوں کو وفا نہیں کیا ہے ۔ورنہ گزشتہ چارسال میں کبھی ایسا بیان نہیں آیا جس میں مرکزی حکومت سے ان کے تال میل کی بات سامنے آتی ہو،البتہ اس بارجو انہوںنے بی جے پی کی مرکزی حکومت کے بارے میں وضاحت پیش کردی کہ بی جے پی لیڈر شپ کے صلاح مانگنے پر ،اگروہ ر جوع ہوتے ہیں تو ہم انہیں اپنے مشوروں سے نواز دیتے ہیں ،لیکن ان کی سیاست پر ہمارا کو ئی اثر نہیں ہے ،حکومت کی پالیسیوں سے آرایس ایس کاکوئی لینا دینا نہیں ہے ۔وہ اپنی حکومت کو بہتر طورپر چلانے میں’ آزاد‘ ہیں۔ویسے اس آخری سطر میں کوئی سچائی نظرنہیں آتی ہے

ویسے اس کی کیا ضرورت پیش آئی ،یہ ایک راز ہے۔کیا دونوں ہم خیال تنظیموں میں غلط فہمی پیدا ہوگئی ہے ،یا پس پردہ کوئی اور وجہ ہے۔
اس مرتبہ بھاگوت نے حیرت انگیز طورپر کہا کہ ایک ہندویہ کہتا ہے کہ ایک مسلمان ہندوستان میں نہیں رہ سکتا ہے تو وہ ہندوتوا کی صحیح ترجمانی نہیں کرتا ہے ،بھائی چارہ اور یکسانیت ہندوتوا کے خمیر میں شامل ہے۔ ملک کی ترقی میں ہم تن گوش ہے ،لیکن لوگوں نے اس کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کی ہیں ،ہندوتوا کا مقصد دوسرفے کی مخالفت کرنا نہیں ہے۔پہلی بار یہ بھی وہ دستور ہند کے گن گاتے ہوئے بطی نظرآئے کہ دستورایک طاقت پر مرکوز ہے اور اس اہمیت سے کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ہے ۔دستورہی ملک کی استحکام کی علامت ہے۔
واضح رہے کہ اپنے بارے میں پیدا غلط فہمیوں کو دورکرنے کی غرض سے سنگھ نے مسلمان،عیسائی ،سکھ اور دیگر مذاہب کی تنظیموں کے سربراہوں کو اس تقریب میں مدعوکیا تاکہ آرایس ایس کے نظریات اور نقطہ نظر سے مطلع کیا جاسکے ۔کانگریس کا جہاں تک تعلق ہے کہ ہمیں یاد ہے کہ 1971میں پاکستان کے ساتھ جنگ میں فتح اور بنگلہ دیش کے قیام پر آرایس ایس نے اندرا گاندھی کو ’’درگاماتا ‘‘ کے خطاب قراردیاتھا اور آنجہانی اٹل بہاری واجپئی کے ہمراہ ان کے سیاسی طورپر تال میل سے سبھی واقف ہیں ۔اس مرتبہ پرنب مکھرجی نے ایک پہل کی ،ان کے ناگپورجانے کا مقصد کیا تھا اور کانگریس کے اندر معمولی احتجاج کے بعد خاموشی کیوں اختیار کرلی گئی ،کیاوہ پارٹی کے سنگھ ہیڈکوارٹرز میں بحیثیت قاصد گئے تھے ؟اب صرف دیکھنا ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے جلدیا بدیر سبھی کواس کا علم ہوجائے گا

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest