دستک ادبی فورم، شعبہ اردو بنارس ہندویونیورسٹی کے زیراہتمام افتخار راغب کے شعری مجموعہ”کچھ اور“ کی رونمائی

معاصرشعری منظرنامے پر افتخارراغب کی شناخت نمائندہ غزل گو کی ہے: پروفیسرشہاب عنایت ملک

(بنارس) کسی بھی عہد کے ادبی رجحان اور شعری و تنقیدی نیز تحقیقی رویوں کو سمجھنے کے لیے اس عہد میں شائع ہونے والی کتابوں کا مطالعہ ضروری ہوتا ہے۔ہمارے عہد میں جو کتابیں منظرعام پر آرہی ہیں ان سے ہمارے دورکی صداقتوں کا علم ہوتا ہے۔ کوئی بھی کتاب  بالخصوص شعری و ادبی تخلیقی نگارشات اپنے حال اور زمین کے حالات کے زائیدہ ہوتی ہیں جنھیں پڑھ کر موجودہ دور ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلیں بھی صورتحال سے واقف ہوتی ہیں۔افتخار راغب کی غزلیہ شاعری ہمارے عہد کی دستاویز ہے جسے پڑھنا اپنے آپ سے اور اپنے گرد وپیش سے روبرو ہونا ہے۔ اسی لیے انھیں معاصر شعری منظرنامے کا نمائندہ شاعر کہا جانا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار پروفیسرشہاب عنایت ملک (ڈین فکلٹی آف ہیومنیٹیز، جموں یونیورسٹی)نے دستک ادبی فورم، شعبہئ اردو، بنارس ہندویونیورسٹی کے زیراہتمام منعقدہافتخار راغب کے شعری مجموعہ ”کچھ اور“ میں اپنی صدارتی کلمات میں کیا۔اس سے قبل اپنے استقبالیہ تقریر میں صدر شعبہئ اردو بنارس ہندویونیورسٹی پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نے جناب افتخار راغب کے شعری امتیازات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افتخار راغب کی شاعری میں ہجرت اور دربدری کا جو کرب ہے وہ صرف ان سے مخصوص نہیں بلکہ یہ کسک ان تمام لوگوں کی ہے جو اپنے گھر سے دور ہیں۔ نمائندہ شاعر دراصل وہی ہوتا ہے جس کا ذاتی احساس کائناتی ہو۔ ایسی شاعری کسی ایک خطے یا دور تک محدود نہیں ہوتی بلکہ وہ اس نوع کی سرحدوں کو مسمار کرتی ہے۔ افتخار راغب بنیادی طور پر غزل کے شاعرہیں اور ان اختصاص یہ ہے کہ انھوں نے روایتی شاعری کے پہلو بہ پہلو ادب کے بدلتے منظر نامے اور تقاضوں کو اپنی تخلیقات میں جگہ دی ہے۔افتخار راغب کے شعری مجموعہ پر گفتگو کرتے ہوئے شعبے کے استاد ڈاکٹر رشی کمار نے انھیں باکمال شاعر قرار دیا۔ انھوں نے مجموعہ سے اپنی پسند کے کئی اشعار بھی سنائے۔ ڈاکٹر محمدقاسم انصاری نے ہجرت اور اردو کے مسائل کو افتخارراغب کی شاعری میں دریافت کرنے کی کوشش کی اور اردو کی نئی بستیوں میں دوحہ قطر کی خصوصیات پر گفتگو کی۔ افتخار راغب کے شعری مجموعہ ”کچھ اور“ پر محیی الدین اور جاوید انور نے تبصراتی مضامین پیش کیے۔آخر میں ”کچھ اور“ کے خالق افتخار راغب نے شعبہئ اردو، بنارس ہندویونیورسٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میرے لیے آج بڑی طمانیت اور سرشار ہونے کا لمحہ ہے کہ میرے مجموعہ پر یہاں کے اساتذہ، ریسرچ اسکالر اور طلبہ و طالبات نے گفتگو کی اور کاوشوں کو پسند کیا۔ میں اس کے لیے صدر شعبہئ اردو پروفیسرآفتاب احمد آفاقی اور ان کے تمام رفقا کا ممنون ہوں۔اس جلسے میں نظامت کے فرائض دستک ادبی فورم کے نگراں ڈاکٹرمشرف علی نے انجام دیے اور شکریے کی رسم عبدالسمیع نے ادا کی۔ تقریب پذیرائی کے بعد شعری نشست کا آغاز ہوا۔ اس میں جن شعرا نے اپنے کلام پیش کیے ان میں جناب افتخار راغب،کبیر اجمل،ڈاکٹر محمدعقیل،مائل انصاری،خالدجمال، نہال جالب اور جاوید انور کے نام اہم ہیں۔ ادبی نشست کی نظامت جاویدانور نے انجام دی اور شکریہ کی رسم ڈاکٹر رقیہ نے ادا کی۔ اس موقع پریونیورسٹی کے مختلف شعبوں کے اساتذہ، شعبہئ اردو کے ریسرچ اسکالر، طلبہ وطالبات کے علاوہ شہر بنارس کے اہل ذوق کثیرتعداد میں شریک ہوئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram