حجاب پہننے پر سوشل میڈیا پر اے آر رحمان کی صاحبزادی کے بارے میں غیرمناسب جملے کا استعمال افسوسناک

ممبئی:مشہور و معروف موسیقار اے آر رحمٰن کی بیٹی کے حجاب پہننے پر سوشل میڈیا میں لوگوں نے خوب کھنچاتانی کی ہے۔ موسیقی کی بیٹی پر ٹرولز نے سوشل میڈیا پر ناپسندیدہ اور غیرمناسب پروپیگنڈہ کرتے ہوئے انہیں نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ سوشل میڈیا پر نہ صرف بیٹی بلکہ باپ کے خلاف گندی زبان کا استعمال کرتے ہوئے انہیں برا بھلا کہا گیا ہے۔ آپ کو بتادیں کہ اے آر رحمٰن کی فلم ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ کے آسکر ایوارڈ جیتنے کے ۱۰؍ برس مکمل ہونے سے متعلق منعقدہ ایک تقریب میں جب اے آر رحمان کی بیٹی خدیجہ کو اسٹیج پر بالایا کیا گیا تو انہوں نے حجاب پہنے ہوئے اسٹیج پر اپنے والد کا انٹرویو کیا۔تاہم اس تقریب کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر ٹرولز نے خدیجہ کے لباس کی وجہ سے ان کے والد اے آر رحمٰن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔حالانکہ اس پر چند کم ظرف اور مسلم دشمن سوچ رکھنے والے ٹرولز کاکہنا تھا کہ یہ پردہ یا حجاب ان کے والد نے انہیں زبردستی پہنایا ہے ، ان شرپسند عناصر نے یہ بھی کہا ہے کہ اس حجاب کا مقصد صرف اور صرف تصویر بنواکر اسے آزادی انتخاب کا نام دینا ہے۔ حالانکہ اسکے علاوہ بہت سارے لوگوں نے اسکی ستائش بھی کی ہے۔ واضح رہے کہ اے آر رحمٰن کی صاحبزادی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا جواب بھی دیا۔انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ’کچھ لوگ میرے بارے میں تبصرہ کر رہے ہیں اور اس حجاب کو میرے والد کی جانب سے میرے لیے زبردستی قرار دے رہے ہیں، تاہم میں انہیں صرف اتنا جواب دینا چاہوں گی کہ میرے والدین کا میرے حجاب پہننے یا اس کا انتخاب کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے‘۔آپ کو بتادیں کہ اے آر رحمان کی بیٹی خدیجہ نے ٹرولز کا جواب دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ حجاب کا استعمال کرنامیری ذاتی خواہش ہے جسے میں نے عزت کے ساتھ قبول بھی کیا ہے کیونکہ میں ایک باشعور بالغ لڑکی ہوں اور اپنی زندگی میں (اچھے فیصلوں کے) انتخاب کے بارے میں جانتی ہوں‘۔اے آر رحمٰن کی بیٹی نے اپنے پیغام میں بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’ایک انسان کو مکمل حق کے وہ اپنے لباس کا انتخاب کرے یا وہ کام کرے جو اس کا دل چاہیے اور میں یہی کر رہی ہوں‘۔انہوں نے اپنے ناقدین کو پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شر پسند عناصر اور سماج دشمن افراد کسی بھی واقعہ کی وجہ جانے بغیر اور پھر اس واقعہ کی صورتحال جانے بغیر اس معاملہ میں میرے بارے میں اور دیگر کسی بھی معاملے میں اور کسی کے بھی بارے میں کوئی غلط فیصلہ دینے سے بچیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram