کلکتہ ہائی کورٹ کی خاتون کو۲۹؍ہفتے کا حمل ضائع کرانےکی اجازت

کلکتہ:کلکتہ ہائی کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں ۴۲؍سالہ خاتون کو ۲۹؍ہفتے کے حمل کو ضایع کرنے کی اجازت دیدی ہے۔کلکتہ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ جسٹس بسواناتھ سمدار اور جسٹس ارندم مکھرجی نے آج حمل سے متعلق عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا ہے۔میڈیکل رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اگر بچے کی پیدائش ہوتی ہے دل،پیٹ اور سر میں کئی سنگین بیماریاں ہوسکتی ہیں ۔عدالت نے کہا ہے کہ ایک ماں کیلئے اپنے بچے کو کھونا سب سے بھیانک تجربہ ہوتا ہے۔اس کے باوجود خاتون کو احساس ہے کہ عمر اور مالی حالت کے اعتبار سے اگر اس حالت میں بچے کی پیدائش ہوتی ہے تو وہ بچے کا صحیح سے علاج نہیں کراپائے گی۔ ۲۹؍جنوری کو کلکتہ ہائی کورٹ کی یک رکنی بنچ نے خاتون کو حمل ضایع کرنے کی اجازت دینے سے منع کردیا تھا۔اس وقت حمل ۲۶؍ ہفتہ کا تھا۔جسٹس تاپبترتا چکرورتی نے کہا تھا کہ رپورٹ میں عرضی گزار کے علاج سے متعلق کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔وکیل نے ڈویژن بنچ کو بتایا کہ اگر بچے کی پیدائش ہوتی ہے تو بچے کے والدین صحیح سے علاج نہیں کراپائیں گے، کیو ں کہ مالی حالت ان کی اچھی نہیں ہے۔ ۴۸؍سالہ شوہر ایک پرائیوٹ کمپنی میں کام کرتے ہیں جبکہ ۱۳؍سال کی ایک بچی پہلے سے ہی اسکول میں تعلیم حاصل کررہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram