ہزل۔’’دلہن کے ساتھ جائو حافظ خدا تمہارا‘‘

چمکا تمہاری قسمت کا دفعتاً ستارہ
دلہن کے ساتھ جائو حافظ خدا تمہارا

یاروں کو اپنے کیا کیا نخرے دکھا رہے ہو
سہرے سجا کے سر پر سسرال جا رہے ہو
اس جیت کی لگن میں کیا کیا نہ تم نے ہارا

حافظ خدا تمہارا

اپنے ہی دوستوں سے آنکھیں چرائو گے تم
وہ جب بلائیں گے تو ہرگز نہ جائو گے تم
کہہ دو گے صاف ان سے اب میں نہیں کنوارا

حافظ خدا تمہارا

اب تک جو کچھ پڑھا ہے سب بھول جائو گے تم
بیگم کے پیچھے پیچھے اب دم ہلائو گے تم
اب وہ پڑھائے گی جو وہ پڑھنا ہے دوبارا

حافظ خدا تمہارا

دن رات یار تم کو تنہائی تھی ستاتی
حسرت سے دیکھتے تھے بارات جو بھی جاتی
جی بھر کے اب کرو گے بیگم کا اب نظارا

حافظ خدا تمہارا

شادی کے بعد اکثر لوگوں کا حال یہ ہے
میرا نہیں ہے پیارے سب کا خیال یہ ہے
اپنوں سے یار تم بھی کر لو گے اب کنارا

حافظ خدا تمہارا

شاپنگ پر کبھی بھی بیوی کو کچھ نہ کہنا
جو بھی وہ لینا چاہے اس کو وہ لینے دینا
اس کے بغیر پیارے ورنہ نہیں گزارا

حافظ خدا تمہارا

کُلو،منالی اس کو اب تو گھمائو گے تم
ہاتھوں سے اپنے اس کو دیکھو سجائو گے تم
وہ جاہے جینس پہنے یا پہنے وہ غرارا

حافظ خدا تمہارا

کیا کیا نہ خواب اپنے دل میں سجا رہے ہو
جلدی ہی باب بننے اب تم بھی جارہے ہو
آجائے گا تمہارے گھر میں بھی اک لوارا

حافظ خدا تمہارا

کرتے ہی فیس بک پہ سارے یہ لونڈے چیٹنگ
اب فون پر رضیؔ یہ کرنے لگے ہیں سیٹنگ
جب وقتِ خاص آیا سب نے مجھے پکارا

حافظ خدا تمہارا

ڈاکٹر رضیؔ امروہوی
بانی علامہ قیصر اکیڈمی
علی گڑھ
آباد مارکیٹ دودھ پور علی گڑھ
موبائل:9897601669

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram