ہاشم پورہ فیصلہ: درست تو آیا ،پر اتنی دیر سے کہ اب خوش ہونے والے بھی زندہ نہیں

ڈاکٹر وسیم راشد،چیف ایڈیٹر صدا ٹوڈے

ہاشم پورہ قتل معاملہ میں دہلی ہائی کورٹ نے پی اے سی کے ۱۶؍اہلکاروں کو عمرقید کی سزا توسنا دی ہے لیکن نہ جانے کیوں اس فیصلے کے بعد مجھے بار بار دامنی فلم کا یہ ڈائیلاگ بے تحاشا یاد آرہا ہے کہ تاریخ پہ تاریخ ، تاریخ پہ تاریخ، اور پھر اتنا دیر سے فیصلہ آئے کہ مجرم کے دل سے سزا کا خوف بھی ختم ہوجائے اور ان میں سے کچھ زندہ بھی نہیں رہے۔ یہ خود انصاف کا خون ہے۔
حالانکہ اس فیصلے سے ایک بار پھر سے مسلمانوں کا عدلیہ پر اعتماد بحال ہوا ہے لیکن سوال ابھی بھی کئی باقی ہیں کہ آخر پی اے سی کے جوانوں کو قتل عام کرنے کی اجازت ، یا حکم کس نے دیا تھا، یہ تو آپ اور ہم سب جانتے ہیں کہ پولیس اہلکاروں کے پاس اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ کسی کو مار ڈالیں اور نہ ہی وہ سینئر آفیسر کے حکم کی خلاف ورزی کرسکتے ہیں تو پھر وہ پولیس آفیسر کون تھا؟ رات کے اندھیرے میں گولی چلانے والے تو نظر نہیں آسکتے ، لیکن حکم دینے والے کی شناخت تو ہوہی سکتی تھی جو ابھی تک نہیں ہوئی۔ دوسری بات یہ کہ اس ذیلی عدالت کے ججوں سے کیوں باز پرس نہ کی جائے ،جنھوں نے ۲۱؍ مارچ ۲۰۱۵ کو شناخت نہ ہونے پر سبھی ملزمین کو باعزت بری کردیاتھا۔ اکتیس سال میں بچے جوان ہوگئے ،جوان بوڑھے ہوگئے، کچھ اب اس دنیا میں نہیں رہے ،ایسے میں کیا یہ ضروری نہیں کہ ہندوستان کی عدالتوں کو جلد سے جلد فیصلہ سنانے کے لیے تیار کیا جائے تاکہ جو مجرم اپنی جوانی کاٹ چکے ہیں اور بے خوف ہوگئے ہیں ان جیسے مجرموں کو وقت پر سزا مل سکے۔
ایک اور اہم بات یہ بھی ہے کہ پی اے سی کا ریکارڈ ہمیشہ سے خراب رہا ہے، مسلمانوں کے تعلق سے سب سے زیادہ تعصب پی اے سی میں ہی پایا جاتا ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ پولیس میں مسلمان بھی زیادہ سے زیادہ بھرتی ہوں۔
اب مجرمین کے وکلا، سپریم کورٹ میں جائیں گے۔ آگے کیا ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ مجھے سب سے زیادہ تکلیف دیر سے ملے انصاف کی ہے جس میں بیشتر مظلومین کے ماں باپ اور لواحقین بھی اب مرچکے ہیں۔ اب یہ انصاف اکتیس سال بعد آیا ہے تو اس کی خوشی منانے والے بھی زندہ نہیں رہے۔ دیر سے ملا انصاف ناانصافی کے ہی برابر ہے۔ یوپی سرکار نے ایک صاف ستھرے انصاف کے فیصلے میں اہم کردار ادا کیا ۔ اس کی ستائش آج کئی اخبارات کررہے ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت ملک کا ماحول خراب کرنے میں موجودہ حکومت نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ گائوں قصبوں دیہاتوں میں پی اے سی نہیں مار رہی لیکن مقامی لوگ اپنی نفرت کا اظہار کررہے ہیں اور سرراہ پیٹ پیٹ کر مار ڈالنے کا عمل جاری ہے۔ لیکن ایک سکون پھر بھی ہے کہ جو کام حکومتوں کو کرنا چاہئے تھا وہ عدلیہ کررہی ہے اس لیے عدلیہ کی جتنی بھی تعریف ہو کم ہے۔
اب بس اتنا اور ہوجائے کہ جن کو شہید کیا گیا تھا کم سے کم ان کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ مل جائے اور نوکریاں ملیں تاکہ جس گھر کا کمانے والا نہیں رہا اب اس کے بچے اور لواحقین بہتر زندگی بسر کرسکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest