ہنگامہ ہے کیوں برپا ملاقات ہی تو کی ہے؟

 ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

اس وقت مولانا ارشد مدنی کی موہن بھاگوت سے ہوئی ملاقات کو لے کر ہنگامہ ہے ۔ مولانا کی حمایت کرنے والے اس ملاقات کو ہجومی تشدد اور خوف کے ماحول میں ضروری و تاریخی بتا رہے ہیں ۔ گفتگو میں زیر بحث آئے موضوعات سے اس کو نفرت ختم کر قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لئے اہم مانا جا رہا ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی، رواداری اور امن ملک کی ترقی کے لئے ضروری بلکہ سرمایہ کاری کے لئے بھی ناگزیر ہے ۔ یہ آنے والا وقت بتائے گا کہ مستقبل میں اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے، فی الوقت تو صرف خیر کی امید ہی کی جا سکتی ہے ۔ لیکن مولانا کی مخالفت کرنے والے کئی طرح کے خدشات، شک و شبہات اور بے اطمینانی کا اظہار کر رہے ہیں ۔ ان کے نذدیک یہ قدم جمیعت کی خود سپردگی اور قومی مفاد کے سودے جیسا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ مولانا ارشد مدنی صاحب موہن بھاگوت سے ہوئی اپنی بات چیت کو پبلک ڈومین میں لائیں ۔ اور آئندہ مسلمانوں کی دیگر جماعتوں اور با اثر چیدہ شخصیات کے ساتھ ملاقات کی جائے ۔

قومی مفاد میں مولانا ارشد مدنی جو کام کر رہے ہیں مثلاً فرضی انکاؤنٹر کا معاملہ، دہشت گردی کے جھوٹے کیس میں پھنسے نوجوانوں کو قانونی مدد، مظفرنگر فرقہ وارانہ فساد میں اجڑے مکینوں کو رہائش گاہ کی فراہمی، این آر سی اور بابری مسجد مسئلہ وغیرہ وہ کوئی جماعت یا سربراہ نہیں کر رہا ۔ مولانا کے غیر مسلموں سے بھی اچھے روابط ہیں ۔ پرمود کرشنن، سوامی چدانند سرسوتی، ہری چیتنا نند، سادھوی بھگوتی سرسوتی اور دیگر سادھو سنتوں کو اپنے سالانہ جلسہ میں بلاتے رہے ہیں ۔ پھر آر ایس ایس کے سربراہ سے ملنے والے وہ پہلے شخص بھی نہیں ہیں ۔ ایمرجنسی میں سنگھ اور جماعت اسلامی ہند کے ذمہ داران و کارکنان جیل میں بند تھے ۔ اس دوران قائم ہوئے آپسی تعلقات دیر تک چلے ۔ دونوں جماعتوں کے کارکنان وذمہ داران کا ملنا جلنا قریب ڈیڑھ سال تک جاری رہا ۔ 2004 میں مولانا اسعد مدنی کی ہدایت پر جمعیتہ علماء ہند کے ایک وفد نے مولانا محمود مدنی کی قیادت میں سابق سر سنچالک کے سی سدرشن سے مل کر مختلف مسائل پر بات چیت کی تھی ۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی نے بھی اپنے حلقہ پیغام انسانیت کے ذریعہ غیر مسلموں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا ۔ اس وقت خواجہ افتخار احمد سمیت کئی مسلم دانشوروں نے اٹل حمایت کمیٹی میں شامل ہو کر ہندو مسلمانوں کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے برج بنانے کا بیڑا اٹھایا تھا ۔ جس کو مسلمانوں نے مسترد کر دیا ۔ ان اقدامات کو دیکھتے ہوئے مولانا ارشد مدنی پر شک کرنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی ۔

مولانا ارشد مدنی، موہن بھاگوت ملاقات کی اہمیت سے شاید ہی کسی کو اختلاف ہو ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جس آر ایس ایس کو فاشسٹ گروپ بتا کر 2015 میں اس پر پابندی کا مطالبہ کر چکے ہیں ۔ اس کے سربراہ سے ملاقات کی وجہ کانگریس کا زوال تو نہیں ۔ جب تک کانگریس اقتدار میں تھی جمعیت کے لوگ مزے میں تھے ۔ حسین احمد مدنی سے لے کر اسعد مدنی تک با ضابطہ راجیہ سبھا کے ممبر نام زد ہوتے رہے ۔ مسلمانوں کو سیاسی اعتبار سے امپاور ہونے سے روکنے کے لئے کانگریس نے جمعیت کو استعمال کیا ۔ کانگریس کی چھوٹ سے اہل دیوبند نے بے روزگاروں اور چندہ خوروں کی بھیڑ کھڑی کر دی جبکہ دوسری جانب ششو مندر اسکول، کالج اور یونیورسٹیز کے ذریعہ اپنا حامی کیڈر پیدا کیا گیا ۔ معترضین اسے دوبارہ اثر و رسوخ حاصل کرنے اور اپنی دولت و جائداد کو بچانے کے لئے اہل اقتدار سے قربت حاصل کرنے کی کوشش بتا رہے ہیں ۔ جو سنگھ کی خوشنودی کے بغیر نا ممکن ہے ۔

کہا یہ بھی جا رہا ہے کہ آر ایس ایس اپنی شبیہ درست کرنے کے لئے مسلم دانشوروں اور جماعتوں سے میل جول بڑھا رہی ہے ۔ اسی سلسلہ کی کڑی کے طور پر جمعیت کے سربراہ سے ملاقات ہوئی ہے ۔ سنگھ 2014 سے پہلے سے ہی مسلم دانشوروں اور جماعتوں کے ذمہ داروں سے مل کر اپنی بات سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اسے معلوم ہے کہ مسلمانوں کو الگ تھلگ کرکے وہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ رہا سوال موجودہ حالات کا تو ساری زہر افشانی اور اشتعال انگیزی حکمراں جماعت کے ممبران کی جانب سے کی جا رہی ہے ۔ جس کی وجہ سے حالات زیادہ خراب ہو رہے ہیں ۔ لیکن آر ایس ایس اس پر پوری طرح خاموش ہے ۔ صرف وہ ہی نہیں ایسا لگتا ہے کہ حکمران جماعت کے مسلم ونگ کو بھی اس پر لب کشائی کی اجازت نہیں ہے ۔ دہلی میں موہن بھاگوت کی مسلم دانشوروں کے ساتھ 2017 میں ہوئی بیٹھک میں جب اس دل آزار بیان بازی کے بارے میں سوال پوچھا گیا تھا تو انہوں نے “مسلمانوں کے خلاف آر ایس ایس کبھی کوئی بات نہیں کہتا” کہہ کر پلڑا جھاڑ لیا تھا ۔

ہر جماعت کا اپنا نظریہ ہوتا ہے ۔ آر ایس ایس کا بھی ایک نظریہ ہے ۔ اس کا ماننا ہے کہ ہندوستان میں رہنے والے تمام لوگ ہندو ہیں ۔ چاہے ان کا طریقہ عبادت کچھ بھی ہو ۔ ان کا کہنا ہے کہ الگ الگ مذاہب کو ماننے والوں کے باپ دادا ہندو تھے ۔ اس لئے انہیں اپنے گھر واپس آنے میں شرم نہیں کرنی چاہئے ۔ جو لوگ باہر سے آئے وہ حملہ آور ہیں ۔ ان کی عزت نہیں کی جا سکتی ۔ انہیں یہاں رہنے کا حق نہیں ہے ۔ سنگھ کے ساتھ بات چیت کی سابقہ جتنی کوششیں بھی ہوئی ہیں ۔ ان میں سے ایک میں بھی اس نے اپنے نظریہ میں نرمی کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے بلکہ ہر میٹنگ میں اس کا اپنے نظریہ پر اسرار رہا ہے ۔ اس کا ماننا ہے ک ہندتوا کے فلسفہ میں امن و سلامتی ہے ۔ جس کو حاصل کرنے کے لئے ہندو راشٹر کا قیام ضروری ہے ۔ اس نے قدیم تہذیب و ثقافت کے ساتھ نیشنلزم کو جوڑ کر راشٹر واد (یعنی ہندو نیشنلزم) کا مفروضہ گڑھا ۔ اس میں فرقہ واریت پوشیدہ ہے، شاید اسی لئے منشی پریم چند، ربندر ناتھ ٹیگور، سبھاش چندر بوس وغیرہ اس راشٹر واد کے مخالف تھے ۔

ذاتی طور پر کے سی سدرشن مولانا جمیل احمد الیاسی اور موہن بھاگوت مولانا ارشد مدنی کی عزت کر سکتے ہیں لیکن ان سے تعلق کی بنیاد پر وہ اپنے نظریہ میں تبدیلی لائیں اس کی امید کم ہے ۔ کیوں کہ ان کی بنیاد ہی مسلم دشمنی پر ٹکی ہے ۔ اس کا آغاز ہندو سماج کی اصلاحی تنظیم “برہمو سماج” کی ابتداء سے ہو گیا تھا ۔ جس کے مقاصد میں ہندو سماج سے ستی پرتھا و دوسری غلط رسموں کو ختم کرنے کے ساتھ انگریزوں کی حمایت اور مسلمانوں کی مخالفت شامل تھی ۔ جسے بعد میں ہندو مہاسبھا نے آگے بڑھایا ۔ آر ایس ایس کا قیام بھی انہیں خطوط پر ہوا، اسی لئے ہندو مہاسبھا یا آر ایس ایس سے جڑے کسی بھی شخص نے نہ صرف انگریز حکومت کی مخالفت نہیں کی بلکہ آزادی کی تحریک میں حصہ بھی نہیں لیا ۔ نہ ہی اس نے اپنے نظریہ میں کسی تبدیلی کا اشارہ دیا ۔ شاید اسی لئے لمبے عرصہ تک کوشش کرنے کے بعد جماعت اسلامی ہند نے اپنا پیر پیچھے کھینچ لیا تھا ۔ مولانا مدنی کا یہ کہنا کہ سنگھ ہندو راشٹر کے بنیادی نظریہ کو نظر انداز یا مسترد کر سکتا ہے ۔ وہ اپنے نظریہ میں تبدیلی کر سکتا ہے کچھ زیادہ امید وابستہ کرنے جیسا ہے ۔

دشمنوں سے بات کرنے، ربط رکھنے اور برا سلوک کرنے والوں کے ساتھ احسان کرنے کا اسلام حکم دیتا ہے ۔ اس لحاظ سے مولانا ارشد مدنی صاحب کی کوشش قابل تحسین ہے ۔ ایک دو ملاقاتوں سے نتائج برآمد نہیں ہوں گے ۔ اس سلسلہ کو مسلسل جاری رکھنا ہوگا ۔ اگر اس سے حالات میں تبدیلی آتی ہے تو یہ ملک اور قوم کے مستقبل کے حق میں بہتر ہوگا ۔ اس سے ترقی کے نئے دروازے کھولیں گے ۔ کوئی بھی کرے مگر اس کام کی ضرورت تو ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest