حملے کے بعد کی دہشت گردی

ڈاکٹر وسیم راشد،چیف ایڈیٹر صدا ٹوڈے

پلوامہ حملے کی پوری دنیا میں مذمت ہورہی ہے، خود ہندوستان میں اس حملے کے بعد ہند ومسلم متحد ہوکر اس کی مذمت کررہے ہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے ہمیشہ اپنے وطن عزیز کے لیے جانیں قربان کی ہیں اور کسی بڑی مصیبت پر سب نے یک جٹ ہوکر آواز اٹھائی ہے۔ پلوامہ حملے کے بعد بھی سارے ہندوستان کے مسلمان کینڈل مارچ نکال رہے ہیں ۔ مدارس میں تعزیتی جلسے ہورہے ہیں۔ اسکولوں کالجوں میں اس حملے کی مذمت کی جارہی ہے۔ غرضیکہ پورے ہندوستان کے مسلمان اس حملے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کررہے ہیں۔ لیکن جس طرح اس حملے کے بعد کشمیری نوجوانوں کو ستایا جارہا ہے ان کو آتنک وادی کہہ کر چھیڑا جارہا ہے وہ سخت تشویش کا باعث ہے۔
دہلی کے ایک کالج میں کشمیری طالب علموں کو اپنی جان بچا کر ہاسٹل کے کمرے میں پناہ لینی پڑی جو کہ آنکھوں دیکھا واقعہ ہے ۔ وائس چانسلر نےبھی کشمیری نوجوانوں کو کہیں بھی آنے جانے کو منع کردیا ہے۔ اس طرح جموں میں بھی مسلم کشمیری طالب علموں پر آتنک وادی کہہ کر ہتک آمیز حملے کیے جارہے ہیں اور ان کو اس حد تک پریشان کیا جارہا ہے کہ وہ اپنی جان بچانے کے لیے سخت اقدامات اٹھارہے ہیں۔ یہ حملے کے بعد کی وہ دہشت گردی ہے جس پر کوئی میڈیا کوئی چینل آواز نہیں اٹھارہا ہے۔
جموں میں تو حملے کے اگلے ہی دن مسلم آبادی والے علاقوں میں مشتعل ہندوئوں نے حملے کرکے املا ک اور گاڑیوں کو نذرآتش کردیاتھاجس کی وجہ سے نوجوانوں کو ہاتھوں میں پتھر اٹھانے پڑے۔ ہندوستان کے بہت سے شہروں میں اسکولوں، کالجوں اور دیگر کمپنیوں میں جہاں کشمیری نوجوان ہیں ان کو ہراساں کیا جارہا ہے۔
میرے خیال میں تو یہ نفرت پھیلانے کا کام پورا نیشنل میڈیا کررہا ہے۔ اشتعال انگیز مباحثے ، نفرت آمیز جملے اور چیخ چیخ کر ہندوستانی عوام کو بھڑکانے کی اس پوری مہم کا مقصد صاف نظر آرہا ہے اور وہ ہے ملک میں فرقہ پرستی کا زہر گھول کر ووٹ پولرائز کرنا۔ تاکہ آئندہ الیکشن میں پورا فائدہ بی جے پی کو مل جائے۔ زیادہ تر چینلز نے تو پورا جنگ کا ماحول ہی Create کردیا ہے۔ میڈیا اس وقت سب سے زیادہ نگیٹو رول ادا کررہا ہے۔ پلوامہ حملے کا انتقام فوج کو لینا ہے عوام کو نہیں ،اور پلوامہ حملہ پاکستان کے جیش محمد نے کیا ہے ہندوستان کے مسلمانوں نے نہیں۔
اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ جو چینلز اس نفرت کا زہر نوجوانوں کو پلارہے ہیں اس پر حکومت سختی سے پابندی عائد کرے جب خود ہندوستانی مسلمان مکمل سراپا احتجاج ہیں تو پھر یہ سلوک ان کے ساتھ کیوں؟ یہ دہشت گردی ہے جس کا نتیجہ خون خرابہ ہی ہوگا اور کچھ نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest