غزل۔ تو چاہے گا فسادات کرانا لیکن ۔ہم بھی ماحول کشیدہ نہیں ہونے دیں گے

اسلم ساحر ممبئی

اے ستمگر تیرا چاہا نہیں ہونے دیں گے
خواب تیرا کوئی پورا نہیں ہونے دیں گے
تو، تو چاہیے گا فسادات کرانا لیکن
ہم بھی ماحول کشیدہ نہیں ہونے دیں گے
سرخ منظر نہ تری دید کو حاصل ہوگا
ہم تری سوچ کو چہرہ نہیں ہونے دیں گے
تیرے ہر وار کو روکیں گے اسی ڈھال سےہم

تیرے آپنوں کو بھی تیرا نہیں ہونے دیں گے
خود غرض لوگ جنھیں اپنی قیادت ہے عزیز
یہ کوئی کام بھی اچھا نہیں ہونے دیں گے
اپنےزخموں کے اجالے سے کریں گے روشن
شہر زنداں میں اندھیرا نہیں ہونے دیں گے
صبح دم سارے خداؤں کا بھرم ٹوٹ گیا
وہ جو کہتے تھے سویرا نہیں ہونے دیں گے
باغ شاہین علامت ہے نئ صبحوں کی
ان فضاؤں کو تو دھندلا نہیں ہونے دیں گے
اپنی ہستی کو مٹادیں گے اصولوں کے لیۓ
اے وطن ہم تجھے رسوا نہیں ہونے دیں گے
ان کی کوشش ہے کہ ہم رکھ دیں قلم کو اپنے
ہم کو بھی ضد ہے کہ ایسا نہیں ہونے دیں گے
اسلم ساحر ممبئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *