ہیں  یاد گاریں جتنی دشمن کو یہ سنا دو۔جمہوریت کا ڈنکا عالم میں تم بجا دو

 

 

 

ہیں  یاد گاریں جتنی دشمن کو یہ سنا دو”عارفہ مسعود عنبر مرادابادتاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ سرزمین ہندوستان کی آبیاری اور اس کے تقدس کی بحالی میں مسلم خواتین نے بھی قدم بہ قدم حب الوطنی ،شجاعت بہادری ،ہمت اور حوصلے کے نمونے پیش کئے ہیں ۔ملک کے خلاف اٹھنے والی آوازیں اور ملک کی آزادی کے لیے ہونے والی تحریکوں میں برابر کا حصہ لیا ہے صنف نازک کہلای جانے والی کم سن نازک ہتھیلیوں پر مہندی، ہاتھوں میں چوڑیاں پہننے والی دوشیزہ ،معاشرے میں اکسر جس کی چوڑیوں کو کمزوری کی نشانی سمجھا جاتا ہے وقت آنے پر ظلم و ستم، بربریت، اور تانا شاہی کے خلاف انہیں چوڑیوں کو اپنا ہتھیار بناکر ظلم اور تشدد کے خلاف اپنی آواز بلند کر کے ہمت اور زندہ دلی کا ثبوت پیش کیا ہے،عورت نے ہر شعبے میں مختلف خدمات انجام دیکر اپنی نسوانی طاقت کا لوہا منوایا ہے،

اج ملک جس پر آشوب دور سے گزر رہا ہے وہ تاریخ میں کالی سیاحی سے لکھا جائے گا ، سی اے اے ،این آر سی ، این پی آ ر کے خلاف خواتین کی جو احتجاجی مہم جاری ہے وہ سب کے لیے سبق آموز ،اور حوصلہ۔ مند ہے ، تحریک کی پہلی آواز جامعہ ملیہ سے اٹھی جس کے نتیجے میں ان پر وحشیانہ تشدد کیا گیا سلام ہے ان ماؤں پر جنہوں نے ایسی ہمت والی دختران پیدا کیں جنہوں نے لاٹھیاں ڈنڈے کھا کر بھی ظلم کے خلاف آپنی آواز کو بلند اور حوصلوں کو پرواز رکھا ۔اس احتجاج میں خواتین مردوں سے آگے نظر آ رہی ہیں شاہین باغ کی خواتین نے گزشتہ پندرہ دسمبر سے کالن کنج روڈ پر مظاہرہ شروع کیا تھا اس وقت ان خواتین نے جامعہ ملیہ اود علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں وحشیانہ تشدد کے خلاف مورچہ سنبھلا تھا لیکن آہستہ آہستہ سلگنے والی اس چنگاری نے پورے ملک میں ،اگ لگا دی مہاراشٹر کے مالیگاوں ،پٹنہ ،بہار ،گیا ،مدھوبنی ارریہ آلا آباد میں ذاکر علی پارک غرض کہ پورے ملک کو خواتین نے شاہین باغ میں تبدیل کر دیا ہماری ماں بہنیں اس وقت وہ قربانیاں پیش کر رہی ہیں جو یقیناً ایک تاریخ رقم کریں گی ، ان خواتین نے وہ کام کر دکھایا جو سماج اور سیاست کے بڑے بڑے قائدین اور رہبر نہ کر سکے آج ان مظاہروں کا ذکر پوری دنیا میں ہو رہا ہے ان مظاہروں میں 20سال سے لیکر 90 سال تک کی خواتین حصہ لے رہی ہیں پوری دنیا ملک کی ان خواتین کے ہمت اور حوصلے پر نازاں ہے مسلم خواتین کی حب الوطنی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ مائیں اپنے شیر خوار بچوں کو گود میں لیکر احتجاج میں شامل ہیں

مسلم خواتین کو ناقص العقل ،اور مرد کے اشارے پر چلنے والی سمجھنے والو، حجاب کو کمزور عورت کی نشانی سمجھنے والوں ،گھر کی چہار دیواری میں قید سمجھنے والو، تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھو کہ مسلم خواتین صرف خاتونِ خانہ نہیں ہیں بلکہ انہیں اتنا ہی سیاسی و سماجی شعور ہے جتنا کہ مردوں کو بلکہ بعض مسائل کی افہام اور تفہیم میں تو وہ مردوں سے بھی دو ہاتھ آگے نظر آتی ہیں مسلم خواتین نے قدم بہ قدم اپنی ہمت، حوصلے ،شجاعت اور بلند خیالی کے ایسے ایسے نمونے پیش کیے جو ہندوستان کی تاریخ میں سنہری الفاظ میں درج ہیں آج میں ان خواتین کا ذکر کرنا چاہتی ہوں جن کو یاد کر کے دور حاضر کی شاہینوں کی پرواز بلند سے بلند تر ہو جائے گی اور تاریخ میں ان کا نام بھی سنہری الفاظ میں درج ہوگا ۔۔بیگم حضرت محل کا نام زبان پر آتے ہی سمجھ بوجھ ہمت اور حوصلے کے نقش ابھر کر سامنے آتے ہیں بیگم حضرت محل ہر دور کی خواتین کے لیے مشعل راہ ہیں،وہ جنگ آزادی کی اولین سرگرم عمل خاتون رہنما تھیں ١٨٥٧,١٨٥٨ کی جنگ آزادی میں صوبہ اودھ بیگم حضرت محل کی ناقابل فراموش جدو جہد تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ سنہری الفاظ میں درج رہے گی کہ کس طرح ایک با حجاب خاتون نے برطانوی حکومت اور ایسٹ انڈیا کمپنی سے لوہا لیا اور ١٨٧٩ تک آخری وقت تک تقریباً بیس سالہ زندگی ہمت اور بہادری کے ساتھ برتانوی حکومت کی مخالفت میں بسر کی انہو ں نے ایک دانشور سیاست دان کی طرح محل میں رہ کر پالیسیاں بھی بنایں اور ایک جانباز سپاہی کی طرح میدان جنگ میں بھی ڈٹی رہیں ١٨٥٦ میں برطانوی حکومت نے نواب واجد علی شاہ کو جلا وطن کر کے کلکتہ بھیج دیا

اس وقت بیگم حضرت محل نےحکومت کی کمان سنبھالی اور ایک نئے انداز میں جنگ آزادی کی ایک مضبوط قائید بن کر ابھریں انہوں نے نہ صرف محل میں بیٹھ کر منصوبے بنائے بلکہ بہادر سپاہی کی طرح میدان جنگ میں اپنے جوہر بھی دکھائے، بیگم نے لکھنؤ چھوڑنے کے بعد نیپال میں پناہ لی اور وہی ١٨٧٩ میں ان کی وفات ہوئی ۔
بی اماں یعنی ابدہ بیگم زوجہ عبدلعلی خاں ہندوستان کی تحریک آزادی میں برابر کی شریک رہیں اور کارہائے نمایاں انجام دیے اور اپنے بیٹوں کو ایسی تعلیم و تربیت سے آراستہ کیا کہ ان کے دو بیٹے مولانا مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی علی تحریک آزادی کے علمبردار بن کر سامنے آے١٩١٧ کے آل انڈیا مسلم لیگ کے کے اجلاس میں بی اماں کی تقریر نے سامعین کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا، سلام ہو اس ماں پر جس کے دونوں بیٹے جیل میں تھے اور اس کی اماں نے تحریک خلافت کے لیے پورے ملک کا دورہ کیا اور اس تحریک کو جلا بخشی ان کا نعرہ تھا

“بولی محمد علی کی اماں کے بیٹا خلافت کے لئے جان دے دو”

واہ رے قربان جاؤں ایسی ماں پر جس نے اپنے مادر وطن کی محبت میں اپنے لختِ جگر اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک ،اپنے نونہالوں کی قربانی دینے میں ذرا بھی لغزش نہ کی اگرچہ وہ ایک بزرگ عورت تھیں مگر ان کا حوصلہ جوان تھا،
مولانا محمد علی جوہر کی بیگم بھی جن کا اصل نام امجدی بانو تھا تحریک آزادی میں مولانا کے شانہ بہ بشانہ چلیں،
نشاط النساء بیگم یعنی حسرت موہانی کی زوجہ محترمہ بھی ایک ا پرعزم خاتون اور تحریک آزادی میں انہوں نے اہم رول رول ادا کیا ١٢ اپریل ١٩١٦میں حسرت موہانی جب دوسری مرتبہ جیل گئے اس وقت یہ باقاعدہ سیاست میں میں نظر آئیں انہوں‌ نے حسرت موہانی کے‌مقدمے کی پیروی بھی کی اور اپنے شوہر کے ساتھ ہر جلسے میں برابر کی شریک رہیں، انہوں نے کانگریس سبجیکٹ کمیٹی کی نمائندگی بھی کی سودیشی تحریک میں شامل رہیں ،اور علی گڑھ میں خلافت تحریک کے قیام میں بھرپور تعاون کیا، مولانا حسرت موہانی نے اپنی آپ بیتی” مشاہدات زندہ” میں لکھا ہے کہ ٢٢جون ١٩٠٧ کو اپنے رسالہ “اردو ے معلیٰ “میں ایک مضمون شائع کرنے پر بغاوت کے جرم میں انہیں گرفتار کرلیا گیا اور دو سال کی قید با مشقت اور پچاس روپے جرمانہ کی سزا ملی اپیل کرنے پر ان کی سزا ایک سال کردی گئی اور جرمانے کی رقم ان کے بھائی نے ادا کر دی ،گر فتاری کے وقت ان کی شیرخوار بیٹی نعیمہ بےحد علیل تھی لیکن اس موقع پر بھی انکی اہلیہ نے حوصلے اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے شوہر کو خط لکھا جس میں یہ کہ کر اپنے شوہر کا حوصلہ بڑھایا ” تم پر جو مصیبت آن پڑی ہے اسے مردانہ وار برداشت کرو میرا یا گھر کے متعلق کوئی خیال نہ کرنا خبردار تم سے کسی قسم کی کمزوری کا اظہار نہ ہو “

زلیخا بیگم یعنی مولانا ابوالکلام آزاد کی زوجہ محترمہ بھی بہت با ہمت خا تون تھیں تمام مصائب برداشت کرنے کے باوجود اپنے شوہر کا دست وبازو بنی رہیں اور انہیں خانگی مسائل سےہمیشہ بے فکر رکھا۔
ایسی بہت سی خواتین ہیں جن کا اگر ذکر کیا جاے تو ایک طویل فہرست تیار ہو سکتی ہے ۔۔یہ تھیں میرے ملک اور۔ میری قوم کی باحوصلہ خواتین جنہوںنے اپنے حوصلے اور ہمت سے ایک تاریخ رقم کی ۔۔۔اج پھر ملک کی خواتین ایک تاریخ رقم کر رہی ہیں پورے ہندوستان میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاجات ہو رہے ہیں اور یہ احتجاجات آہستہ آہستہ ایک تحریک میں تبدیل ہو گئے ہیں اس تحریک کی باگ ڈور طلبہ اور خواتین نے اپنے ہاتھ میں لے لی ہے چنانچہ اب اس تحریک کو کچل پانا اتنا آسان نظر نہیں آتا..

ہے یادگاریں جتنی دشمن کو یہ سنا دو
جمہوریت کا ڈنکا عالم میں تم بجا دو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *