گوالیار کے استاد شاعر مرحوم نسیم رفعت پر منعقدہوا ایک روزہ سیمینار

برھانپور(مہ لقہ انصاری کے ذریعے)انجمن ترقی اردو ہند گوالیار،بزم اردو ،ادارہ محفل فن کار کے زیراہتمام مرحوم نسیم رفعت پرایک روزہ سیمینار اور تعزیتی جلسے کا انعقاد 17؍مارچ اتوار کو دن میں 10:30 بجے منعقد ہوا،پروگرام کے کنوینراور انجمن ترقی اردو ہند گوالیار کے سیکریٹری ڈاکٹر وسیم افتخار انصاری (صدرشعبۂ اردو،گورنمنٹ راجہ گرلس پی جی کالج گوالیار)نے بتایاکہ پہلے اجلاس کی صدارت درگاہ حضرات خواجہ خانون ؒ گوالیار کے چشم چراغ اور سجادہ نشین خواجہ راشد خانونی نے فرمائی نورانی مسجد کے امام حافظ مبین رضا صاحب کے ذریعے تلاوت کلام پاک سے پہلے اجلاس کا آغاز ہوا،حافظ محمد مظہر قادری امام مسجد رنگ ریزوں نے اپنے استاد مرحوم نسیم رفعت کی حمد،توبڑاکارسازہے مولا،نسیم رفعت کے ایک اورشاگرد عقیل رضا خان نے غزل “آئینے توڑدیئے اس نے نہ جانے کتنے”مرحوم رفعت نسیم کی صاحبزادی محترمہ کوثرجہاں نے “ہر ایک شام نیاپیرہن بدلتی ہے کوبڑے دل کش اور دل نشین انداز میں پیش کیا،گلوکارشاہ رخ قریشی نے مرحوم کی مشہور زمانہ غزل “چندجملے بن کے کاغذ پر بکھر جاتاہوں میں”سناکر موصوف کی جوانی کو تازہ کردیا،صدرجلسہ حضرت راشد خانونی نے سبھی شاگردوں اور فن کاروں کی تعریف کرتے ہوئے مرحوم سے اپنے دیرینہ تعلقات پر اظہار خیال فرمایا،دوسرا اجلاس استاد شاعر ڈاکٹر قمر الدین قمر گوالیار کی صدارت میں منعقد ہوا،جس میں محترمہ نشاانصاری،محترمہ حلیمہ خاں،ڈاکٹر شبانہ نکہت انصاری،ڈاکٹر وسیم افتخار انصاری،ڈاکٹر تبسم خان(شیوپور)،ڈاکٹر آرایل ساہوبیکس عامرفاروقی اور ڈاکٹر وجے کلیم نے صاحب سیمینار پر مقالے پڑھے ،منظوم خراج عقیدت پر مبنی تیسرے اجلاس کی صدارت جناب عامر فاروقی نے فرمائی جبکہ مہمان خصوصی کے طورپر عرفان بیگ نے شرکت فرمائی اس میں ابراربشر،حافظ مبین رضا،فاروق احمد مغل، منیش کمار جین (تحصیل دار نیمچ)،دیال صاحب ،موہن کرولیا،اقبال فیضی نے بہترین کلام پیش کیا،نظامت کے فرائض ڈاکٹر وسیم افتخار نے انجام دیئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *