غزل۔چینل چینل جھوٹ سنایا جائیگا .جنتا کی آواز دبادی جائیگی

پرکھوں کی تہزیب بھلادی جائیگی
صدیوں کی پہچان مٹادی جائیگی

چینل چینل جھوٹ سنایا جائیگا
جنتا کی آواز دبادی جائیگی

ووٹ کی خاطر لالچ دے کر لوگوں کے
ہاتھوں میں بارود تھمادی جائیگی

آنے والی نسل کرےگی بھرپائ
کھلیانوں میں آگ لگادی جائیگی

ماضی اپنے آپ کو پھر دہراۓ گا
آزادی پھر خواب بنادی جائیگی

ہندو مسلم مل کر دونوں ایک ہوۓ
الفت کی اب جوت جگادی جائیگی

وردی والو! کون مقابل ہے دیکھو
کیا؟ ان پر بندوق چلادی جائیگی

قاتل چہرے سامنے آنے والے ہیں
دنیا کو تصویر دیکھادی جائیگی

اس دھرتی پر جینا بھی ہے اور مرنا بھی
حاکم کو یہ بات بتادی جائیگی

موت اٹل ہے مرنے سے پھر ڈرنا کیا؟
حق پر لڑتے جان گنواری جائیگی

ہر جانب اب ایک ہی نعرہ گونجے گا
سنسد کی بنیاد ہلادی جائیگی

سڑکوں پر طوفان بپاہے انساں کا
ڑکٹیٹر کی دھول اڑادی جائیگی

اتنے میں بھی ہوش اگر نا آیا تو
آخر کو سرکار ہٹادی جائیگی

اسلم ساحر ممبئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *