اچھے دن والوں کے برے دن شروع ہوگئے

کلیم الحفیظ
کنوینر انڈین مسلم انٹیلیکچولس فورم
نئی دہلی ۲۵
9891929786
ملک نئی تقدیر لکھنے کے دور سے گزررہا ہے۔پورا ملک ریلیوں ،بڑے بڑے جلسوں ،رنگ برنگے جھنڈوں،دل کشا وعدوں،سے گونج رہا ہے۔ہر طرف الیکشن کی چرچا ہے۔ایک زمانہ تھا لوک سبھا الیکشن کے بارے میں اتنا شور شرابہ نہیں ہوتا تھا ۔آج سوشل میڈیا کا دور ہے،ہر بات لمحوں میں دور تک پھیل جاتی ہے۔اس لیے گائوں میں نیم کے پیڑ کے نیچے بھی اور شہر کے بڑے بڑے سیمنار ہال میں بھی عام انتخابات کا شور ہے۔
پچھلے پانچ سال جس طرح گزرے ہیں اس سے ہم اچھی طرح واقف ہیں ۔چندامبانیز اور مودیز کو چھوڑ کر ملک کا ہر شہری پریشان رہا ہے۔مہنگائی کی بڑھتی مار کا اثر سب کے چہروں پر جھلک رہا ہے۔نوٹ بندی کے بعد کے قیامت خیز مناظر ابھی یادداشتوں میں محفوظ ہیں۔ہجومی تشدد کے زخم ابھی ہرے ہیں،تازہ واقعہ ۹؍ اپریل کو آسام میں پیش آیا ہے۔پاکستان سے حساب چکانے والوں کے بارے میں عمران خان کی رائے ۱۱؍ اپریل کے تمام اخبارات میں موجود ہے ۔جس میں انھوں نے ہندوستان میں BJPحکومت کے اعادہ کوپاکستان کے حق میں بہتر قرار دیا ہے۔رافیل ڈیل پر سپریم کورٹ خاموش نہیں ہے۔پلوامہ کے شہدا کی بیوائوں کے آنسو ابھی خشک نہیں ہوئے ہیں۔پندرہ لاکھ،اچھے دن،دوکروڑ نوکریاں :

ترے وعدے پہ جیے ہم تو جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

انتخابی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یہ تو وقت ہی بتائے گا۔لیکن ملک کا موڈ صاف دکھائی دے رہا ہے۔امت شاہ،مودی اور یوگی کے چہروں پر گھبراہٹ بتا رہی ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے،سپریم کورٹ نے رافیل پر بات کرکے کلین چٹ پر داغ لگا یا ہے،الیکشن کمیشن نے سیکولر پارٹیوں کے دبائو میں ہی سہی نمو چینل اور مودی جی پر بنی فلم پر پابندی لگا کر بڑا جھٹکا دیا ہے۔اڈوانی جی اگرچہ زبان سے دل کادرد بیان نہ کررہے ہوں لیکن ان کی آتما ضرورکروٹیں بدل رہی ہے۔
مختلف پارٹیوں نے انتخابی منشور شائع کردیا ہے ۔سب نے حسین وعدے کیے ہیں ۔ایک سے بڑھ کر ایک سپنے دکھائے گئے ہیں۔البتہ BJPکاانتخابی منشوراصل میں ملک کو تقسیم کرنے،فرقہ واریت کو بڑھاوا دینے اور ملک کی معیشت کو تباہ کرنے کا منصوبہ ہے۔یہ اچھی بات ہے کہ عوام نے BJPکے منشور کو مسترد کردیا ہے ۔عوام ہندو مسلم کے ایشوز پر حکمرانوں کے ارادے بھانپ چکی ہے۔وہ جان چکی ہے کہ جن کے منھ پر ’رام ‘ہے ان کی بغل میں دودھاری چھری ہے۔
ہر طرف سے مودی ہٹائو اور مودی ہرائو کی آوازیں آرہی ہیں۔یہ ہوا ہردن تیز ہورہی ہیں،اور آندھی کا رخ اختیار کررہی ہے۔جو خبریں ملک کے مختلف گوشوں سے موصول ہورہی ہیں ،ان سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ ’شاہ‘کے لیے دہلی دور ہورہی ہے۔کشمیر سے کنیا کماری تک فاشزم کے خلاف خاموش اتحاد ہے اور کیوں نہ ہو کوئی بھی شہری ملک کو تباہ ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔مسجدکی اذانیں ،مندر کے شنکھ اس ملک کی عظمت کے نشان ہیں ۔اس لیے کوئی ہندوستانی ان ایشوز پر گمراہ نہیں ہونا چاہتا۔جو لوگ ملک کی سرحدوں کی حفاظت نہ کرسکتے ہوں،جو اپنے ملک کے فوجیوں کا تحفظ نہ کرسکتے ہوںایسے چوکیداروں کو عوام تحفظ کا کام نہیں سونپ سکتی۔
اترپردیش میں SP,BSP,RLDگٹھ بندھن کی جیت صاف دکھائی دے رہی ہے۔یہاں سے بی جے پی کا صفایا تک ہوسکتا ہے۔مغربی اترپردیش خاص طور پر مظفرنگر جہاں BJPکے انسانیت دشمن نمائندوں نے انسانیت کو تارتار کردیا تھا ۔وہاں بی جے پی کو اپنی عزت بچانا مشکل ہورہا ہے۔سہارن پور،بجنور ، مراداباد،رام پور،بریلی کی ہر سیٹ پر گٹھ بندھن کا امیدوار آگے ہے۔یہی حال مشرقی اتر پردیش کا ہے۔
بہار میں آر جے ڈی کی قیادت میں جو مہا گٹھ بندھن ہے اس کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں۔امید ہے کہ وہ وہاں سے دوتہائی سیٹوں پر قبضہ کریں گے۔بنگال میں ممتا دیدی فرقہ پرستوں پر بھاری ہیں۔کیرالہ ،آندھرا اور تلنگانہ میں بی جے پی کی جڑیں ہی نہیں ہیں تو وہاں کسی بہار کی امید بھی نہیں کی جاسکتی۔راجستھان،مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی کی شکست ریاستی الیکشن میں ہوچکی ہے،وہاں ہار کا زخم بھی تازہ ہے اور ووٹرس کا جوش بھی۔مہاراشٹر میں البتہ بی جے پی شیو سینا گٹھ بندھن بھاری دکھائی دے رہا ہے لیکن اگر جمہوری اقدار پر یقین رکھنے والی پارٹیاں سمجھ داری سے کام لیں تو وہاں پر بھی چمتکار ہوسکتا ہے۔ملک میں بی جے پی اور ان کے حلیفوں کے خلاف ایک ماحول ہے۔یہ ماحول ان کی اپنی ملک دشمن پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔ اس ماحول کو کیش کرنے کی ضرورت ہے۔اس ماحول کو بنائے رکھنے کی ضرورت ہے۔
ملک سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہم دھرم اور ذات سے اوپر اٹھ کر ایسے لوگوں کے حق میں ووٹ کریں جو جمہوریت پر یقین رکھتے ہوں۔ہم جانتے ہیں کہ بی جے پی ایک نظریہ کانام ہے ۔جس کے نزدیک اسلام اور عیسائیت تو خیر باہر کے دھرم ہیں ۔انھیں ملک میں رہنے کا ادھکار نہیں ۔لیکن خود ملک کے باشندوں میں بھی وہ آرین اور غیر آرین کی تفریق کرتی ہے۔اس کی وچار دھارا کے مطابق راج کرنے کا حق صرف آرین کو ہے۔دوسرے الفاظ میں برہمنوں کو۔رہے غیر آرین تو وہ شودر اور دلت ہیں انھیں راج کرنے کا نہیں بلکہ اپنے راجائوں کی سیوا کرنا چاہئے۔
ملک کا دلت طبقہ اس بات کو سمجھ گیا ہے۔اس لیے وہ اس نظریہ کے خلاف کھڑا ہوگیا ہے۔کیوں کہ اس کے سامنے اپنے وجود کی بقا کا سوال ہے۔حکمرانوں نے اقتدار کے نشہ میں جس طرح کی زبان بولی ہے ۔اس سے بھی بی جے پی کو نقصان ہورہا ہے ۔کہیں انھوں نے کہا کے کہ یہ آخری الیکشن ہے ،کہیں انھوں نے کہا کہ ہم آئندہ پچاس سال راج کریں گے،پندرہ لاکھ کا وعدہ یاددلانے والوں کو انھوں نے کہہ دیا کہ وہ صرف ایک جملہ تھا یعنی مذاق تھا۔کسی نے راون کو دلت بتاکر دلتوں کی توہین کی ہے۔ اس سے دلت طبقہ نے اندازہ لگالیا ہے کہ اس کا وجود ملک کے جمہوری نظام سے وابستہ ہے۔اس لیے جمہوریت کو بچانا ہی اس کا دھرم ہے۔ورنہ اس کے لیڈروں کی ان کوششوں پر پانی پھر جائے گا جو و ہ پچھلے پچاس سال سے دلتوں کے عروج کے لیے کرتے رہے ہیں۔
مسلمان جو دراصل بادشاہ گر ہے۔پچھلے الیکشن کے نتائج سے سبق سیکھ رہا ہے۔وہ ہر سیٹ پر بی جے پی کے تابوت میں کیل ٹھونکنے کو تیار ہے۔پچھلے دنوں بی جے پی کی نام نہاد تنظیم ’’مسلم راشٹریہ منچ‘‘کے سینکڑوں ممبران اور عہدیداران نے پارٹی سے استعفا دے دیا تھا ۔ان کا الزام تھا کہ بی جے پی کے قول اور فعل میں بڑا تضاد پایا جاتا ہے۔وہ دعویٰ تو سب کا ساتھ سب کے وکاس کا کرتی ہے ۔مگر عملاً اس کے سامنے اعلیٰ ذات کے ہندوئوں کا مفاد ہوتا ہے۔ہو سکتا ہے بعض سیٹوں پر مسلمانوں کے سامنے یہ صورت حال آجائے کہ ایک طرف مسلم امیدوار ہو اور دوسری طرف گٹھ بندھن کا ہندو امید وار ہو ۔ایسے موقع پر عام طور پر مسلمان جذبات کا شکار ہوجاتے ہیں اور فرقہ پرست جیت جاتے ہیں۔یہ وقت جذبات سے کام لینے کا نہیں ہے بلکہ ہوش سے کام لینے کا ہے۔یہاں ایمان اور اسلام کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ملک کی جمہوری قدروں کا ہے اس لیے ایسے امیدوار کو ووٹ کیاجانا چاہیے جو فرقہ پرستوں کو شکست دے۔
اس موقع پر ووٹ کی اہمیت پر گفتگو کرنا اس لیے بے سود ہوگہ کہ اس موضوع پر بہت گفتگو ہوچکی ہے اور اب ہر شہری اپنے ووٹ کی اہمیت کو سمجھ چکا ہے۔البتہ میں یہ گزارش ضرور کروں گا کہ آپ جہاں بھی ہوں وہاں سے اپنا ووٹ دالنے اپنے پولنگ بوتھ پر ضرورآئیں ۔اس کے لیے آپ کو اپنا کچھ نقصان بھی اٹھاناپڑسکتا ہے۔کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ محنت مزدوری کے باعث اپنے وطن سے دور پردیس میں رہتا ہے ۔اس لیے اس کا ووٹ کاسٹ نہیں ہوتا۔جس سے بڑا نقصان ہوتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ صد فیصد ووٹنگ کی جائے۔پہلے مرحلے میں ووٹنگ فیصد قابل اطمینان نہیں رہا۔
میری گزارش ان لوگوں سے بھی ہے جو الیکشن کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں،کہ وہ ان پنی سرگرمی کو کائونٹنگ تگ باقی رکھیں۔ہر کام منصوبہ بند ہو،سیکولرپارٹیوں کے کارکنان سے تال میل کے ساتھ ہو۔فرقہ پرستوں کی سازشوں پر بھی نظر ہو ۔ایسے موقع پر لڑائی جھگڑے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔اس لیے اس پہلو پر خاص طور پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
فرقہ پرست ہار رہے ہیں ۔یہ بات یقینی ہے۔لیکن ہماری ذرا سی بھی کوتاہی ان کی ہار کو جیت میں بدل سکتی ہے۔الیکشن پانچ سال میں آتا ہے۔اس کا مطلب ہے اگر ہم نے کوئی غلطی کی تو اس کا خمیازہ پانچ سال تک برداشت کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ ان گزرے پانچ سالوں میں کرنا پڑا۔آئندہ اپنی غلطی کو سدھارنے کا موقع ملے گا بھی کہ نہیں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest