مخلوق خداکی خدمت انسانیت کی معراج او رایمان کا تقاضا ہے: غیور احمد قاسمی

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے خدام نے کھجوری میں قیام پذیر روہنگیائی پناہ گزنیوں کی بیوہ اور بے سہارا خواتین میں کمبل تقسیم کئے اور مرد حضرات کے لئے پسونڈہ کے دعوت وتبلیغ کے ذمہ داروں نے گرم صدری تقسیم کی جمعیۃ علماء اپنی صد سالہ روایات کے مطابق انسانیت کی خدمت میں مصروف ہے اور پورے ملک میں خدام جمعیۃ ضروتمندوں کی حاجت روائی میں حتی المقدور کوشش کرتے رہتے ہیں۔ غریبوں، نادراروں اور بیوائوں کی خبر گیری میں مصروف ہیں تقسیم کے موقع پر معروف عالم دین مولانا غیور احمد قاسمی نے کہا مذہب اسلام میں جذبہ خدمت خلق کی ستائش کی گئی ہے او ربلندی درجات کے وعدے کئے ہیں ہر انسان کو لوگوں کی ضرورت میں کام آنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ انسانیت کے لئے نافع اور مفید لوگوں کوتاریخ ہمیشہ یاد رکھتی ہے شریعت مطہرہ نے خدمت خلق اور فلاح وبہبود کے کامو ںکی نہ صرف تحسین کی بلکہ اس کو عبادت کا درجہ دیا ہے خلافت راشدہ کے خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایسے خاندانوں کی مدد کرتے تھے جو معاشی لحاظ سے غریب اور نادار ہوں۔ ان میں سے ایک حضرت مِسطح جو آپ رضی اللہ عنہ کے خالہ زاد بھائی تھے۔ یہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ آئے تو ان کے پاس کچھ نہ تھا۔ لہٰذا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کا ماہانہ وظیفہ مقرر کردیا۔ آپ رضی اللہ عنہ ذاتی طور پر بھی گھر گھر جاکر غریبوں ، ناداروں اور بیواؤں کی خدمت کیا کرتے تھے۔ لوگوں کے لیے بازار سے سامان خرید کر لایا کرتے تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزانہ صبح کی نماز کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھتے تھے کہ وہ نماز ختم کرتے ہی جلدی سے چپکے سے باہر نکل جاتے اور مدینہ شریف کے مضافاتی علاقوں کے ایک دیہات کی جانب رختِ سفر باندھ لیتے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کئی بار ارادہ کیا کہ اس کا سبب پوچھ لیں لیکن نہیں پوچھ سکے۔ ایک دن وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے چل دیے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک خیمے میں داخل ہوئے ، کافی دیر بعد جب وہ باہر نکل کر دوبارہ مدینے کی جانب روانہ ہوئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس خیمے میں داخل ہوئے اور وہاں یہ منظر دیکھا کہ ایک نابینا بوڑھی عورت دو چھوٹے بچوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس بڑھیا سے پوچھا : اے اللہ کی بندی تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا: میں ایک مفلس و نادار اور نابینا عورت ہوں۔ میرے والدین ہمیں اس حال میں چھوڑ کر دنیا سے گئے ہیں کہ میرا اور ان دو لڑکیوں کا اللہ کے سوا کوئی اور آسرا نہیں ہے۔حضرت عمر فا روق رضی اللہ عنہ نے دوبارہ سوال کیا : یہ شیخ کون ہے جو تمہارے گھر میں آتا ہے؟ بوڑھی عورت جو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ناواقف تھی ‘ اس نے جواب دیا کہ میں اس شیخ کو جانتی تو نہیں مگر یہ روزانہ ہمارے گھر میں آکر جھاڑو دیتا ہے، ہمارے لیے کھانا بناتا ہے اور ہماری بکریوں کا دودھ دوہ کر ہمارے لیے رکھتا اور چلا جاتا ہے۔(روضۃ المحبین)
خدمتِ خلق کے معاملے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہمیشہ پیش پیش رہا کرتے تھے۔ ہر نیکی میں سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔ آپ نے دورِ خلافت میں بھی نیکی کا کوئی موقع نہیں گنوایا۔ وہ نیکی چاہے کسی کی مالی مدد کرنے سے متعلق ہو یا کسی کے گھر میں کام کاج کرنے کے متعلق ہو، آپ اس سے نہیں کتراتے تھے۔ ہمیشہ خدمتِ خلق کا جذبہ ہوتا تھا۔ آپ کے دور ِ خلافت کا واقعہ ہے کہ مدینہ منورہ کے اطراف میں ایک نابینا بوڑھی عورت رہا کرتی تھی۔ اس کے کوئی رشتہ دار، عزیز و اقارب نہیں تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ روزانہ رات کے وقت اس بڑھیا کے گھر تشریف لے جاتے اس کے گھر کا تما م کام اپنے ہاتھوں سے کرنے کے بعد پانی بھر کر چلے جاتے۔ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے معمول کے مطابق رات کے وقت اس بڑھیا کے گھر تشریف لے گئے۔ آپ نے دیکھا کہ اس بڑھیا کے گھر کا سارا کام کوئی اور کر کے چلا گیا۔کچھ دنوں تک یہی معمول رہاکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب بڑھیا کے گھر پہنچتے تو اس کے گھر کا کام پہلے ہی کوئی اور کرکے جاچکا ہوتا تھا۔ اس بات پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو جستجو ہوئی یہ کون ہے جو مجھ سے پہلے ہی یہ کام کرکے چلا جاتا ہے۔ اس بات کا کھوج لگانے کے لیے وہ اگلے دن اس بڑھیا کے گھر جلدی پہنچے اور ایک جگہ چھپ کر انتظار کرنے لگے۔ تھو ڑا وقت ہی گزرا تھا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے اورچپکے سے اس بڑھیا کے گھر میں داخل ہوکر کام کرنا شروع کردیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بڑے حیران ہوئے کہ خلیفہ وقت ہونے کے باوجود آپ اس بوڑھی خاتون کے تمام امور خوش دلی سے انجام دے رہے ہیں۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مجھ سے نیکیوں میں سبقت لے جاتے ہیں۔
معاشرے میں موجود محتاج، نادار، تنگدست، تہی دست، یتیم، ویسیر مسافر وغریب الوطن اور مفلوک الحال افراد کی دلجوئی اور داد رسی کو ایک مسلمان کی روحانی بلندی کا ذریعہ قرار دیا۔جذبہ خدمت خلق میں عورتوں نے بھی بڑے بڑے نمایاں کارنامے انجام دیئے۔ موجودہ حالات میں خدمت خلق کی سخت ضرورت ہے خواتین کو اس بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے اور اپنے اطراف میں مخیر خواتین کو مجبور اور لاچار بیوائوں کی خبر گیری کرتے رہنا چاہئے تاکہ ہمارے معاشرے میں خوشحالی کا ماحول پیدا ہو اس موقع پر مولانا خلیل احمد قاسمی صدر ضلع جمعیۃ، قاری ہارون اسعدی، مولانا تنویر احمد قاسمی، حافظ شہنواز، قاری فخرالدین وغیرہ نے ائمہ مساجد ذمہ داران مدارس مساجد کمیٹیوں کے صدور سے اپیل کی کہ وہ روہنگیائی مسلمانوں کو خوشحال زندگی بسر کرنے میں ہر ممکن مدد کریں اور تعلیمی اداروں سے جڑے ہوئے حضرات ان کے بچوں کے لئے تعلیمی فکر کریں۔ دعوت وتبلیغ کے ذمہ داران ان حضرات کے کیمپوں میں جماعتیں روانہ کریں تاکہ ان کے ایمان وعقائد کی حفاظت ہوسکے اور ہمارے لئے ذریعہ آخر ونجات کا سبب بنے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest