ہمارا مقصد :زکوٰة لینے والوں کو دینے والا بنانا

مسلم پروفیشنلس نے قومی زکوة سروے کے حقائق و رپورٹ افشا ں کی

ممبئی:ملک کی ایک غیر منافع بخش تنظیم ایسو سی ایشن آف مسلم پروفیشنلس (اے ایم پی) نے گذشتہ پانچ برسوں سے زکوة کے مرکزی نظام کے لیے جدو جہد کررہی ہے تاکہ معاشی طور پر کمیونٹی کے پسماندہ افراد کی زندگیوں میں بہتری لائے جاسکے اور انھیں ”زکوة لینے والوں سے زکوة دینے والوں“ میں تبدیل کیا جاسکے، ایک پریس کانفرنس میں اے ایم پی کے صدرعامر ادریسی نے کہا کہ تنظیم گزشتہ ایک دہائی سے بھی زائد عرصے سے تعلیم اور معاشی استحکام کے لیے کوشاں ہے۔
انہوں نے اس موقع پر مزید کہا کہ زکوة اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔ یہ ان تمام مسلمانوں کے لیے فرض ہے جو دولت کی مخصوص شرط کو پورا کرتے ہوں۔ ایسے تمام مسلمان جن پر زکوة فرض ہے انھیں سالانہ اپنے خاندانی اخراجات نفی کرنے کے بعد اپنی مال و دولت پر ڈھائی فیصد یا اس کا چالیسواں حصہ زکوة کے طور پر دینا ہوتا ہے۔ زکوة نیکی اور تقویٰ کا وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے پسماندہ اور معاشی طور پر کمزور اپنے بھائیوں کی مالی مدد کی جاسکتی ہے مزید یہ سماج اور معاشرے امیر و غریب کے درمیان باہمی آہنگی کا ذریعہ ہے۔ یہ ایک ایسا ذریعہ یا آلہ ہے کہ اگر منظم اور صحیح طریقے سے اس کا اجماع اور تقسیم کا نظم کیا جائے تو اس کے ذریعے وسائل سے محروم کمیونٹی کے افراد کی زندگی کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
عامر ادریسی کے مطابق مسلم کمیونٹی میں زکوة کے حصول اور تقسیم کے نظام کو کو سمجھنے، اسکی کمی کے اثرات کو جاننے کے لیے اے ا یم پی نے ”قومی زکوة سروے“ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس ضمن میںجو اقدامات کیے گئے ،ڈاٹا اور حقائق کی بنیاد پر رپورٹ تیار کی گئی،
عامر ادریسی نے کہا کہ ”یہ حیرت انگیز ہے کہ ۴۸ فیصد افراد جن پر زکوة فرض ہے وہ زکوة ادا کرتے ہیں لیکن ۳۳ فیصد افراد کو زکوة اور اسکے فوائد کے تعلق سے معلومات نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “قابل افسوس بات یہ ہے کہ ساٹھ (۰۶) فیصد افراد ہر سال یکساں افراد کو زکوة ادا کرتے ہیں اور یہ پوچھے جانے پر کہ کیا انھوں نے ان افراد کی زندگی میں کوئی تبدیلی محسوس کی ہے تقریباً پچپن ۵۵ فیصد افراد کا جواب تھا کہ انھیں اس کی کوئی فکر نہیں اور وہ صرف اپنی زکوة کی ذمہ داریوں سے مبرا ہونا چاہتے ہیں۔ “
انہوںنے مزید کہا کہ ”اے ایم پی کے سروے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ اس میں حصہ لینے والے چالیس فیصد افراد نے کہاکہ وہ زکوة کی تحسیب کے صحیح طریقے سے واقف نہیں ہیں۔ اے ایم پی نے اس ضمن میں پہلے ہی اپنی ویب سائٹ پر زکوة کیلکولیٹر اپلوڈ کای ہے تاکہ کمیونٹی کے افراد صحیح طریقے سے زکوة تحسیب کرسکیں۔“ عامر ادریسی نے کہا کہ سروے رپورٹ کے مطابق نوے فیصد زکوة دینے والے افراد کا ماننا ہے کہ زکوة کا ایک ایسا منظم لائحہ عمل ہو کہ آج زکوة لینے والے افراد کل زکوة دینے والے بن جائیں۔
پریس کانفرنس سے ایم زیڈ رحمان (صدر انڈو عرب چیمبرس آف کامرس) نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ”اے ایم پی نے اس قومی زکوة سروے کے ذریعے ایک قابلِ ستائش کام کیا ہے”۔ رحمان نے مزید کہا کہ ”توحید ، نماز و روزہ کے بعد زکوة اسلام کا ایک اہم رکن ہے۔ عربی میں زکوة کا مطلب ہے اضافہ، ترقی اور خالص ہونا۔ ہندوستان میں پانچ کروڑ پسماندہ مسلمانوں کے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے اگر زکوة ادا کرنے والے افراد منظم طریقے سے زکوة جمع کریں اور ان کی تقسیم کا صحیح طریقہ اختیارکیا جائے۔ ہمارے تعلیم یافتہ طبقے کو مذہبی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہوگا تاکہ وہ بھی دنیا اور آخرت میں اللہ کی رحمت سے محروم نہ ہوں۔ “
ماجد خان (اے ایم پی ، معاشی ترقیاتی منصوبہ بندی سیل کے ممبر) اور سی ای او بزنس بیرون میگزین نے کہا کہ ”زکوة کا مقصد ہی منظم اور مرکزی طریقے سے زکوة کی وصولی اور تقسیم کرنا ہے تاکہ سب کو برابری کا موقع مل سکے۔ آخر میںجاوید سید نے کہا کہ ” زکوة مسلمانوں کے پاس ایک ایسا معاشی ذریعہ ہے جو مسلم کمیونیٹی کو موجودہ پسماندگی سے ملک کی ترقی میں میں سربراہی کرنے والا بنا سکتا ہے اے ایم پی اس ضمن میں مسلم پروفیشنلس کی استطاعت کے مطابق اقدامات کررہی ہے اور زکوة کی منظم وصولی اور تقسیم کاری کے اس قدم کے ذریعے کمیونٹی اور ملک کی ترقی میں اہم رول ادا کرے گی۔ “
٭ کمیونٹی کے معروف اسکالرس کی مدد سے جائزے کے لیے ایک تفصیلی سوال نامہ تیار کیا گیا۔
٭ تجزیہ کا سوالنامہ تیار ہونے پر آن لائن لنک فراہم کی گئی۔
٭ آن لائن سروے کا طریقہ کار اختیار کیا گیا اور پریس اور سوشل میڈیا کے ذریعے کمیونٹی کے مختلف افراد سے رابطہ کرکے ان کی آراءکو جاننے کی کوشش کی گئی۔
٭ دنیا کے تیرہ ممالک اور ہندوستان کے ایک سو پچہہتر شہروں سے جملہ چار ہزار پانچ سو نواسی (4589) افراد نے اس سروے میں حصہ لیا۔ ا ن میں سعودی عرب، یونائیٹید عرب ایمیریٹس(یواے ای)، کویت ، عمان، قطر، یو کے ، یو ایس اے، ملیشیا، سنگا پور، جرمنی، کینیڈا، جاپان اور روانڈا (افریقہ) سے لوگوں نے شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram