ڈاکٹر مینا نقوی..مراداباد بھارت

نقش تعبیر کے کانٹوں میں ابھارے گئے ہیں
خواب آنکھوں میں مری یوں بھی سنوارے گئے ہیں
پہلے رسموں کی رسن سانسوں میں باندھی گئ ہے
زندگی کے لئے پھر ہم ہی پکارے گئے ہیں
پانی پینا بھی نہیں پیاس بجھانی بھی نہیں
جانے کیوں لوگ وہ دریا کے کنارے گئے ہیں
صرف ارماں ہی نہیں قتل ہوئے ہیں میرے
دشتِ احساس میں جذبات بھی مارے گئے ہیں
آزمائش کی کوئ حد ہی نہیں ہے اپنی
ہم تو وہ ہیں کہ جو آتش سے گزارے گئے ہیں
جن کو پہچان بھی مٹی کی نہیں تھی کل تک
مثل کندن کے وہی لوگ نکھارے گئے ہیں
عمر بھر کوئ نگہبان نہیں تھا ‘مینا
‘ہم وہ جاگیر ہیں جو جیت کے ہارے گئے ہیں

ڈاکٹر مینا نقوی..مراداباد بھارت

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram