غور و فکر کا عکاس شاعر شفق شادانی

عارفہ مسعود عنبر
مرادآباد

وقت کے ماتھے پر اپنا نام لکھ دینے کی ہمت اور حوصلہ جس انسان میں ہوتا ہے وہی انسان زندگی کی پریشانیوں، اور دشواریوں کا سامنا مسکراتے ہوئے کرتا ہے اور آہستہ آہستہ منزل کی طرف بڑھتا جاتا ہے اور اس کی محنتوں اور کاوشوں کے برعکس ایک دن ایسا آتا ہے کہ وہ ان کنکریلی پتھریلی راہوں پر چلتے چلتے اپنی عظیم منزلوں کو پا ہی لیتا ہے۔ ان منزلوں کو پا کر نہ صرف وہ اپنےآپ فیضیاب ہوتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی آگے بڑھنے کا سبق دیتا ہے ۔پریشانیوں سے جوجھ کر منزلوں کو پا لینے کا درس دوسروں کو سکھاتا ہے۔۔ وہ نئی نسلوں کی قدم قدم پر رہنمائی بھی کرتا ہے ۔ اور یہ رہنمائی کبھی نثر میں کی جاتی ہے اور کبھی اشعار میں جس شاعر نے اس رہنمائی کے لئے اشعار کا سہارا لیا ہے ان کا نام مسعود عالم شفق شادانی ہے۔ شفق صاحب 1964 میں مرادآباد کے کٹگھر محلہ میں پیدا ہوئے آپ کے والد کا نام حافظ محمد فاضل تھا جو پیتل کی تجارت کرتے تھے۔ آپ کی والدہ بھی ایک نیک اور رحم دل خاتون تھیں۔ جنہوں نے شفق صاحب کی پرورش میں کوئی کمی نہیں چھوڑی،جس کا اثر آپ کی شخصیت پر صاف نظر آتا ہے شفق صاحب نے ابتدائی تعلیم گھر کے پاس ہی کے اسکول میں حاصل کی اس کے بعد ایچ ایس بی انٹرکالج میں داخلہ لیا اور وہاں سے انٹرمیڈیٹ امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔لیکن افسوس کچھ خانگی وجوہات کے زیرِ اثر تعلیم کا یہ سلسلہ جاری نہیں رہ سکا ، مگر کچھ لوگوں میں اللہ کریم ایسی خدا داد‌‌ صلاحیتیں عطاء فرماتا ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے وہ ڈگریوں کے محتاج نہیں ہوتے جناب محترم شفق صاحب بھی ان شخصیات میں سے ایک ہیں کالج کی پڑھائی پوری ہونے کے بعد بھی کتابوں سے شغف کم نہیں ہؤا اور آپ‌ کا ‌ کتابوں اور قلم سے مضبوط رشتہ بنا رہا۔۔ آپ کی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ شفق صاحب کو کالج کے زمانے سے ہی شاعری
کا بہت شوق تھا ، اور آپ نے اسی زمانے سے شعر کہنا شروع کر دیا تھا ، شاعری کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیے ١٩٨٥ میں آپ نے مشہور شاعر نظر شادانی صاحب کی شاگردی اختیار کی اور انہیں کے نام پر شادانی کہلائےجانے لگے، شفق صاحب شاعری کے ساتھ ساتھ اپنے کاروبار میں بھی ترقی کرتے ‌رہے یہ بات آپ کی علم دوستی کا ثبوت پیش کرتی ہے آپ کاروبار کے ساتھ ساتھ مسلسل مشاعروں نشستوں اور ادبی محفلوں کا حصہ بنے رہتے ہیں کاروبار کے سلسلے میں آپ انگلینڈ ،فرانس ،بیلجیم ،جرمنی ، اور عرب امارات جیسے ملکوں کے سفر کر چکے ہیں اور خاص بات یہ ہے کہ ان اسفار کے دوران آپ بیرونی ملکوں کی نشستوں اور مشاعروں میں اپنا کلام پیش کرتے رہے ہیں ،یعنی “ایک پنتھ دو کاج” ۔۔ اس کے علاوہ آپ کی غزلیں مختلف اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔۔آکاش وانی رامپور سے بھی آپ کے کلام کی نشریات ہوتی رہتی ہیں ۔۔جیسا کی ہر شاعر کا کلام اس کے احساسات، جذبات اور فکر کا عکاس ہوتا ہے شفق صاحب کی شاعری بھی آپ کے جذبات اور احساسات کو عیاں کرتی ہے آپ کے اشعار آپ کے احساسات کا آئینہ ہیں

ع: ایک سورج نیا نکلے گا زمانے کیلئے
‌‌ ہم‌ اگر اٹھیں صلیبوں کو سجانے کے لئے

شفق صاحب کا کلام آپ کی منازل کو پا لینے کی دھن ان کی کوششوں اور کاوشوں کو بیان کرتا ہے۔۔آپ کا کلام نئی نسل کو ترقی کی نئی راہوں کی طرف گامزن کرتا ہے۔۔

‌ع: دم نہ لو جب تک کہ مل جائیں نہ منزل کے نشاں
‌ کوششیں انسان کی جاتی نہیں ہیں رائیگاں۔

شفق صاحب مشکل راستوں کو بھی اپنے مضبوط ارادوں سے آسان بنا دیتے ہیں

ع: دور کیا چیز ہے جب چاہوں پلٹ سکتا ہے۔ ‌ ‍ راستہ کتنا ہی لمبا ہو سمٹ سکتا ہے

‌ ڈر کےاس سے کیوں بدلتا ہے تو اپنا رستہ
اپنے مرکز سے وہ پتھر بھی تو ہٹ سکتا ہے

شفق صاحب نے نہ صرف اپنے کلام کے ذریعہ نئی نسل کے لئے اصلاحی کلام پیش کیا بلکہ اپنے رب کی حمد میں بھی اشعار پیش کیے ۔۔ اپنے رب کی حمد بیاں کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔۔

‌ع: ‌‌اے خدا تو پتھروں میں بھی ہے انسانوں میں بھی
ذکر تیرا بستیوں میں بھی ہے ویرانوں میں بھی۔۔

عشق کے تیر سے بھلاکوئی خود ‌کو کیسے بچا سکتا ‌ہے نگاہِ ناز سے اگر محبوب کی ایک نظر بھی پڑ جائے تو دلِ ‌بےقرار زخمی ہوئے بنا کیسے بچ سکتا ہے ۔ تو پھر شفق صاحب کس طرح خود کو اس نگاہِ ناز سے بچا پاتے

ع: اے نگاہِ ناز تیرے ہر تبسم کی قسم
تیری شوخی گلکدوں میں بھی ہے پیمانوں میں بھی

یہ فطری عمل ہے انسان کو کسی اور کا بھلے ہی ایک لفظ برداشت نہیں ہو لیکن اپنے محبوب کے ستم کو بھی ہنستے ہنستے برداشت کر جاتا ہے

ع:‍ ‌ ہر ستم شفق ان کا مسکر اکے سہتا ہوں
‌‌ ‌ پھربھی ان کو جانے کیوں مجھ سے بدگمانی ہے

شفق صاحب نے نہ صرف غزلیں کہی بلکہ سرور کائنات کی شان میں نعت کے نذرانے بھی پیش کئے ہیں

ع: ‌ آپ کے سب ہیں طلبگار رسولِ عربی
‌ ‌ ‌ چاہیں مفلس ہوں کہ زردار رسولِ عربی

ع: ‍ ہو اگر آپ کا دیدار رسول عربی
میری آنکھیں بھی ہو‌ں ضو بار رسول عربی

طرحی کلام کا نمونہ پیش ہے

ع: ‌ دریا ہوا پہاڑ سمندر حسین کا
‌ کرتے ہیں احترام برابر حسین کا
‌‌ ‌کرب و بلا میں دیکھ کے لشکر حسین کا
‌‌ تاری یزیدیوں پہ ہوا ڈر حسین کا

شفق صاحب اپنے شاعرانہ کلام اور ادبی خدمات کے لیے بہت سے اعزازات سے بھی نوازے جا چکے ہیں اپنی بہترین غزلوں کے لئے آپ کو” محفل سب رنگ،،” کی جانب سے پہلا انعام حاصل ہوا ۔ شہر جگر کی جانب سے “جگر اوارڈ” سے بھی نوازے جاچکے ہیں شفق صاحب نہ صرف بہترین شاعر ہیں بلکہ عمدہ ناظم‌ بھی ہیں۔ جس کے لئے آپ کو” یونین ورکس” کی جانب سے بہترین ناظم کا اعزاز بھی مل چکا ہے اللہ رب العزت آپ کو مزید کامیابیوں اور کامرانیوں سے ہمکنار کرے۔۔۔آمین‌

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest