غزل

سر اٹھانے کا جو اعلان کیا ہے ہم نے
کون سا آپ کا نقصان کیا ہے ہم نے

اپنے خوابوں کی بسائی ہے یہاں پر جنت
تیری مٹی پہ یہ احسان کیا ہے ہم نے

دھوپ چھائوں کا تماشہ تو رہے گا جاری
بے سبب خود کو پریشان کیا ہے ہم نے

اپنے آنسو سے بنایا ہے ستارہ کوئی
اس طرح رات کو حیران کیا ہے ہم نے

اب چراغوں کو بجھانے نہیں والا کوئی
اب ہوائوں کو نگہبان کیا ہے ہم نے

یہ فقیری یہ امیری یہ زمانہ یہ حیات
آپ کے عشق میں سب دان کیا ہے ہم نے

حسرتیں خواہشیں ارمان نکالے دل سے
جب سے اک عشق کو مہمان کیا ہے ہم نے

سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی
ہلال ہائوس
مکان نمبر ۱۱۴/۴
نگلہ ملاح سول لائن
علی گڑھ یوپی
موبائل:9219782014

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *