غزل۔ خاکِ پائے شمیم تسنیم

بدن پر تازہ زخموں کی نئ تعمیر دیکھیں گے

ترے تیروں کی معماری ترے نخچیر دیکھیں گے

کہ ہم کل رات پائیں باغ میں تفریح کرتے تھے

دریچہ کھول کر اب خواب کی تعبیر دیکھیں گے

ذرا سیرِ نظر کو میر کا دیوان لے آؤ

جسے ناسخ نے دیکھا ہم وہی کشمیر دیکھیں گے

بیاباں کا سفر منزل کو پہنچا اب ترے وحشی

کسی زنداں سے گزریں گے کوئ زنجیر دیکھیں گے

کوئ منظر تو ابھرے ذہن و دل کو کھینچنے والا

بچشمِ شوق دیکھیں گے بلا تاخیر دیکھیں گے

ذرا میں بے ستوں کی سیر سے فارغ تو ہوجاؤں

عزیزانِ نظر کاغذ پہ جوئے شیر دیکھیں گے

میں اپنے آپ میں اک کائناتِ صد نظارہ ہوں

کہاں میرے جہاں کو تیرے گوشہ گیر دیکھیں گے

تسنیم انصاری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram