غزل۔ تسنیم انصاری

 

 

 

 

 

 

 

 

داستاں ختم نہ ہوگی کہ سرے اور بھی ہیں
ابھی کچھ اور زبانیں ہیں گَلے اور بھی ہیں
اور بھی ہیں کہ سفر جن کا ادھورا ہی رہا
جو مکمل نہ ہوئے ایسے پتے اور بھی ہیں
چاند کو غسل تو بیما ر ستاروں کو دوا
چھوڑ اے وحشتِ دل کام مجھے اور بھی ہیں
پیار کی آگ میں جل جانا مبارک ٹھہرا
دو بدن پھر اسی منڈوے کے تلے اور بھی ہیں
تو خود آکر مری نس نس میں سما جاتا ہے
تیری یادیں ہیں تو پھر ایسے مزے اور بھی ہیں
ان کو بھایا ہے مری جان کا دشمن ہونا
میں نے سو بار کہا مجھ سے بھلے اور بھی ہیں
کیا لگا رکھی ہے تسنیم یہ آہ و زاری
صرف اک تو ہی نہیں دل کے دکھے اور بھی ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram