غزل ۔ سیما گوہر۔عمر رشتوں کے تقاضے ہی نبھاتے گزری

 

غزل ۔ سیما گوہر

 

 

زیست آنکھوں میں حسیں خواب سجاتے گزری
روٹھے روٹھے تھے جو پل ان کو مناتے گزری

زندگی نے کبھی اپنا مجھے ہونے نہ دیا
عمر رشتوں کے تقاضے ہی نبھاتے گزری

خشک کرتے رہے آنکھوں کا سمندر اکثر
خود کو بےوجہ سی باتوں پہ ہنساتے گزری

لکھ دیا تھا جسے تقدیر نے برسوں پہلے
اپنے حصے کا وہ کردار نبھاتے گزری

کیا کہیں زندگی کس طور بِتائی یارو!
شب کی تنہائی میں بس اشک بہاتے گزری

سیما گوہر
رامپور – بھارت

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *