غزل۔ریاض ساغر،

 

ھے کہیں بغض و کدورت اور کہیں تکرار ھے،
اس فضا میں سانس لینا باعث آزار ھے,

اپنی سچائی لئے میں پھر رھا ہوں دربدر,
جس طرف بھی دیکھتا ہوں جھوٹ کی یلغار ھے۔

نفرتوں کا زہر پھیلا ھے فضا میں ہر طرف,
آج کے ماحول میں جینا بڑا دشوار ھے.

آج مقتل بن گیا ہے گلشن ہندوستاں،
اور مالی اس تباہی پر بہت سرشار ھے۔

ڈوب ہی جائے گی ظالم تیری کشتی ایک دن،
اسکی طوفانی روش سے ہر کوئی بیزار ھے۔

اچھے دن کس شان سے آئے ھیں میرے ملک میں۔
ہر گلی ہر شہر میں اک ظلم کا بازار ھے۔

مجھکو منزل کی لگن ھے آبلہ پائی کاشوق،
عزم میرا الجھنوں سے برسرپیکار ھے.

ساری دنیا جیت کر جو کل بہت مغرور تھا،
اپنی ہی اولاد کے آگے بہت لاچار ھے۔

 

غزل”
تم اپنے دل کے زخموں کی نمائش سوچ کر کرنا۔
‌‌ یہ دنیا ھے یہاں جینے کی خواہش سوچ کر کرنا۔

یزید وقت نے مقتل بناڈالا ھے یہ گلشن۔

یہاں خوش رنگ پھولوں کی نمائش سوچ کر کرنا۔

کہو فرقہ پرستوں سے ہماری ماں ھےیہ دھرتی،
ھمیں اس سے الگ کرنے کی سازش سوچ کر کرنا۔

تمہیں ھے زعم اپنے زور بازو پر بہت لیکن،
ہمارے بازؤں کی آزمائش سوچ کر کرنا۔

ہمارے ہی لہو کی سرخیاں ھیں اسکے پھولوں میں،
گلستان وفا کو نذرآتش سوچ کر کرنا۔

تمہاری نفرتیں اک دن تمہیں برباد کر دینگی،
محبان وطن کی آزمائش سوچ کر کرنا۔

بڑی قربانیاں دےکر ملی ہے ھم کو آزادی ،
تم اسکو چھیننے کی کوئی کوشش سوچ کر کرنا۔

وطن کی آبرو خطرے میں ہے ہشیار ہوجاؤ،
یہاں آپس میں اب کوئی بھی رنجش سوچ کر کرنا۔

انہیں پانے کی خواہش میں کوئی مجرم نہ بن جائے،
غریبوں میں کھلونوں کی نمائش سوچ کر کرنا.

 

 

۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *