غزل :’’بوڑھے جاتے ہیں حسینوں سے کرانے کے لئے‘‘

لونڈے ملتے ہیں بہت عشق لڑانے کے لئے
کوئی تیار نہیں سیج سجانے کے لئے

فارمولا کوئی ایسا نہ بزرگوں نے دیا
کام آئے جو حسینوں کو پٹانے کے لئے

جس کو بھی دیکھئے نواب بنا پھرتا ہے
جیب میں دانے نہیں چاہے بھنانے کے لئے

نوجوانوں کو جوانی کا مزہ کیا آئے
دودھ بادام تو ملتے نہیں کھانے کے لئے

بوڑھے رکھتے ہیں کئی طرح کے ساز اپنے پاس
نوجواں عاشقوں کا باجا بنانے کے لئے

سچے احباب سے اب ہوگئی دنیا خالی
دوستی کرتے ہیں سب چونا لگانے کے لئے

نوجواں آج کے شادی سے یوں گھبراتے ہیں
چاہئے پیسے بہت گھر کو چلانے کے لئے

قبر میں لٹکے ہیں پیر اور بدن کی مالش
بوڑھے جاتے ہیں حسینوں سے کرانے کے لئے

آج کل کنواروں سے بہتر ہیں ہمارے رنڈوے
روز تیار ہیں یہ شادی رچانے کے لئے

حسن والوں سے کہو وہ ابھی مایوس نہ ہوں
ہم ہیں موجود رضیؔ ناز اٹھانے کے لئے

ڈاکٹر رضیؔ امروہوی
بانی علامہ قیصر اکیڈمی
علی گڑھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest