غزل


رئیس صدیقی
کسی کا جسم ہوا ‘جان و دل کسی کے ہوئے
ہزار ٹکڑے ‘ میری ایک زندگی کے ہوئے
بدل سکا نہ کوئی ‘ اپنی قسمتوں کا نظام
جوتونے چاہا ‘ وھی حال ‘ زندگی کے ہوئے
جو سارے شہر کے پتھر لئے تھا دامن میں
تمام شیشے طرفدار ‘ بس اسی کے ہوئے
نئ بہار کے سپنے تھے‘جسکی آنکھوں میں
تباہ حال سبھی لمحے‘اسی صدی کے ہوئے
بدلتے وقت نے ‘ تقسیم کر دیا مجھکو
تھے میرےخواب جو تیرے‘وہی کسی کےہوئے
تمام عمر رہی ہے‘ مخالفت جس سے
رئیس ہم ‘بھی طرفدار‘ پھر اسی کے ہوئے
غزل -٢
بس اک خطا کی مسلسل سزا ابھی تک ہے
مرے خلاف ترا آئینہ ابھی تک ہے
سبھی چراغ اندھیروں میں بس گئے ‘ لیکن
حریف موج ہوا ‘ اک دیا ابھی تک ہے
گری ہے مری جو دستا ر غم ہوا ‘ لیکن
یہ شکر کرتا ہوں ‘ بند قبا ابھی تک ہے
نظر اٹھا کے کہا میکدے میں ساقی نے
وہ کون ہے جو یہاں پارسا ابھی تک ہے
نہ جانے کون سے صدموں کا شور تھا اسمیں
گزر چکا وہ ادھر سے صدا ابھی تک ہے
رئیس نیزے پہ گردن ہے حق پرستوں کی
رہ حیات میں ‘ یہ کربلا ‘ ابھی تک ہے

رئیس صدیقی ( بھوپال انڈیا )
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ -٢٠١٨ براے اردو ادب اطفال
دھلی اردو اکادمی ایوارڈ – ٢٠٠٤
سابق IBS افسر آل انڈیا ریڈیو / دوردرشن ‘حکومت ہند

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest