غزل:کیوں گھُٹ گھُٹ کر بات کریں؟

دنیا سے ، بیزاری کیا
ایسی بھی ، خوداری کیا؟
سونے والی قوموں سے
ہوگی شب بیداری کیا؟
ہنستے ہنستے، روتے ہو
ایسی بھی، مکاری کیا ؟
غم تو سب کو ملتے ہیں
ہر شب، آہ و زاری کیا؟
کیوں گھُٹ گھُٹ کر بات کریں
(لہجہ ہے ،سرکاری کیا ؟ (ق
ْتم نے ہر اِک شاعر کو
سمجھا ہے ، درباری کیا ؟
رئیس صِدّیقی
Email: rais.siddiqui.ibs @gmail.com
Mob: 9811426415, 7225838464

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest