غزل

وہ جفا بھی کرے تو وفا تم کہو
اس کے ہر اک ستم کو ادا تم کہو
آسماں سے زمیں پر جو آ جاؤ تم
اس کو بدکاریوں کی سزا تم کہو
میں نہ مغرور ہوں اور نہ نمرود ہوں
کیسے کہہ دوں میں خود کو خدا تم کہو
چاہتا ہوں تو پڑھ لکھ کے قابل بنے
بات کیا ہے،ہو ہم سے خفا تم کہو
بات ہم سے نہ کرتے ہو کیوں آج کل
ہو گئی ہم سے کیسی خطا تم کہو
تم نے دیکھا ہی کیا ہے جہاں میں ابھی
ہر قدم حادثہ ہے نیا تم کہو
شام کو لَوٹ آیا سلامت وہ گھر
اس کی ماں نے تھی مانگی دعا تم کہو
خود ہی ہنستے ہو،روتے ہو، سوتے نہیں
کیا محبت میں ہو مبتلا تم کہو
ہم سے الفت نہیں ہے اگر اے صنم
پاس آتے ہو کیوں بارہا تم کہو
عشق ہے تم کو بسملؔ تو سن لو ذرا
درد ملتا اگر ہے دوا تم کہو

پریم ناتھ بسملؔ
مرادپور، مہوا، ویشالی۔ بہار
رابطہ۔8340505230

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram