غزل

بے وفا ہے جو با وفا ہوتا
میری نظروں میں وہ خدا ہوتا

مجھ پہ کیا کیا قیا متیں ٹوٹیں
ساتھ کچھ تو مرا دیا ہوتا

بس مرے ظرف نے سنبھالا اُسے
ورنہ نظروں سے گر گیا ہوتا

زندگی کی تھکن سے چور ہوئی
میرا احساس کچھ کیا ہوتا

روح دیواروں میں رہی محبوس
دم نہ گھٹتا تو اور کیا ہوتا

کاش اتنے بڑے جہاں میں ناز
کوئی تو درد آ شنا ہوتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest