غزلیں

غزل۱
جو وقت ترے ساتھ محبت میں گزارا
لگتا ہے کسی خواب کی جنت میں گزارا

احساس کی خوشبو میں مہکتا ہے ابھی تک
وہ پل جو بڑے پیار سے قربت میں گزارا

معلوم نہیں خواب کی منزل ،کہ کہاں تھی
ہم نے تو سفر شہر سے ہجرت میں گزارا

وہ دردِ جدائی بھی عجب روگ رہا ہے
جو ہجر تیرے بعد قیامت میں گزارا

میں اسکا مداوا کبھی کر ہی نہیں سکتی
جو کرب تیرے پیار کی شدت میں گزارا

جو بیت گیا چاہ میں وہ وقت حسیں تھا
بے کار وہ پل ہے جو عداوت میں گزارا

دراصل وہی خاص رہا اہلِ نظر میں
بے کار تماشہ جو حقیقت میں گزارا

ہر موڑ پہ در پیش قیامت ہی رہی ہے
کس شخص نے دنیا کو سہولت میں گزارا

اس نے ہی چراغوں کو ضیاء بار کیا ہے
جو وقت سحرؔ خواب کی صورت میں گزارا
غزل۲
جی چاہتا ہے تجھکو بہاروں سے مانگ لوں
دلکش حسین چاند ستاروں سے مانگ لوں

اچھا کیا کہ پیار سے اپنا کہا مجھے
دل کہہ رہا ہے تجھ کو اشاروں سے مانگ لوں

لازم ہے زندگی کا سفر تیرے ساتھ ساتھ
تیرا ہی ساتھ کیوں نہ بہاروں سے مانگ لوں

موجوں میں ڈوبنا ہے ترا ہاتھ تھام کر
تھوڑ ی سی زندگی میں کناروں سے مانگ لوں

آنکھوں میں اضطراب ، لبوں پر وفا کے گیت
کیا کیا ترے لیے میں نظاروں سے مانگ لوں

وہ کیف مل رہا ہے محبت کی آگ میں
یہ اضطراب کیوں نہ شراروں سے مانگ لوں

تیرے بغیر ہجر میں جینا محال ہے
تجھ کو دعائے عشق کے پاروں سے مانگ لوں

لاؤں تجھےقریب تو جانے نہ دوں کبھی
تجھ کو غمِ جہاں کے حصاروں سے مانگ لوں

جانِ سحر خرید لوں خود کو میں بیچ کر
ہارا ہوا نصیب خساروں سے مانگ لوں
نادیہ سحر ۔۔۔۔۔۔ملتان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram