غزل

کرب کے احساس سے جب،دل شکستہ ہو گیا
تیری یادوں سے گزر کر جی شگفتہ ہو گیا

جب کسوٹی پر وفا کی ہم نے پرکھا پیار کو
کوئی ماضی ہو گیا ، کوئی گزشتہ ہو گیا

مانگ کر سندور نے جب اوڑھا مٹّی کا کفن
بیوہ دہلیزوں سے ہو کر سب کا رستہ ہو گیا

بے گناہی پر مری کس نے گواہی ثبت کی
کون اس بستی میں اب ایسا فرشتہ ہو گیا

جس نے بھر دیں دِل میں میرے تلخیاں ہی تلخیاں
جانے کیوں لہجہ مرا پھر اس سے شستہ ہو گیا

زرد پتّے کی طرح لرزاں ہوا یوں تن بدن
ٹھیس جذبوں کو لگی ، اور دِل گرفتہ ہو گیا

اُستواری رشتۂ غم کی غزل سے کیا ہوئی!
لفظ خوشبو ہو گئے، لہجہ شگفتہ ہو گیا

اُس نے جب چاہت بھرا مینا ؔ کا دِل ٹھکرا دیا
سرد جذبے ہوگیے، احساس پختہ ہو گیا

ڈاکٹر مینا نقوی..مراداباد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram