غزلیں: کوثر جہاں

غزل۔1
کیا بھلا دوگے مجھے اور جیو گے تنہا
یاد ماضی کا گراں بار سہوگے تنہا

پاؤگے قطرہء بارش میں مرے لمس کا نم
جب کبھی ہجر کے شعلوں میں جلوگے تنہا

زیست کی راہ میں ہرگام بچھے ہیں کانٹے
عمر کی لمبی مسافت ہے، چلوگے تنہا

آؤ مل جل کے محبت کو امر کرتے ہیں
کب تلک یوں مئے فرقت کو پیو گے تنہا

جب کسی ٹوٹتے تارے کا خیال آئے گا
تم بھری بزم میں رہ کر بھی لگو گے تنہا

ہم تو مٹ جائیں گے اس دشت وفا میں کوثر
اور تم زیست کے صحرا میں رہو گے تنہا

غزل۔2
محبت سے سارے جہاں کو سنواریں
دلوں میں مسرت کی خوشبو اتاریں

تصّور ترا اور تنہائی میری
گزارا ہے دن ، رات کیسے گزاریں

خزاں سے ہمیں انسیت ہو گئی ہے
ہمیں راس آتی نہیں یہ بہاریں

جدائی کی آہوں سے دم گھٹ رہا ہے
زباں چپ ہے ، دل سے تجھی کو پکاریں

مرے سامنے بس رہو ہر گھڑی تم
کریں بات تم سے تمہیں ہی نہاریں

محبت میں تیری فنا کر دیں خود کو
تمنا ہے یہ زندگی تجھ پہ واریں

ترے ہجر نے مسخ کردی یہ صورت
بھلا کس طرح اب اسے ہم نکھاریں

فضا دوستی کی بلاتی ہے کوثؔر
چلو ساتھ پرواز کو پر پساریں

کوثر جہاں ۔پونے ہندوستان .

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *