غزل

اس کے غم کو غمِ ہستی تو مرے دل نہ بنا
زیست مشکل ہے اسے اور بھی مشکل نہ بنا

تو بھی محدود نہ ہو مجھ کو بھی محدود نہ کر
اپنے نقشِ کف پا کو مری منزل نہ بنا

اور بڑھ جائے گی ویرانیِ دل جانِ جہاں
میری خلوت گہہ خاموش کو محفل نہ بنا

دل کے ہر کھیل میں ہوتا ہے بہت جاں کا زیاں
عشق کو عشق سمجھ ، مشغلہ ِدل نہ بنا

پھر مری آس بندھا کر مجھے مایوس نہ کر
حاصلِ غم کو خدارا غمِ حاصل نہ بنا

(حمایت علی شاعر)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram