طرحی غزل:”تمام عمر حقیقت کے برخلاف کیا”

تمہارے چہرے کا جب بھی کبھی طواف کیا
تو پہلے آئنہء دل کو ہم نے صاف کیا

مرے قصور کی تفصیل بھی ذرا سن لو
اگرچہ تم نے مری جاں مجھے معاف کیا

تمام رات تری یاد کے فرشتوں نے
کہ میرے ذہن کے حجرے میں اعتکاف کیا

قدم اکھڑنے لگے جابجا اندھیروں کے
فصیل شب میں اجالوں نے جب شگاف کیا

قصور وار ہوا یار تو سزائیں دیں
کبھی تو جان کے دشمن کو بھی معاف کیا

کبھی سنی نہیں تم نے ضمیر کی آواز
” تمام عمر حقیقت کے برخلاف کیا”

عجیب ہے کہ حقیقت کا علم ہوتے ہوئے
“تمام عمر حقیقت کے برخلاف کیا”

دلوں کو جوڑنا مسلک رضا ہمارا ہے
کبھی بھی پیدا دلوں میں نہ اختلاف کیا

فاروق رضا شیگاؤں، مہاراشٹر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest