غزل: ہاجرہ نور

مجھ سے وفا کے جذبوں کو مارا نہیں گیا
آنکھوں سے میری عکس تمہارا نہیں گیا

دھندلا گیا جو نقش نکھارا نہیں گیا
آنکھوں میں حسرتوں کو ابھارا نہیں گیا

نظروں سے تیری گر کے گوارا نہ تھی حیات
اس راستے سے خود کو گزارا نہیں گیا

دن کا قرار، نیند تو شب کی مری لٹی
اس معرکے میں کچھ بھی تمہارا نہیں گیا

جب سے ترا فراق ہے اس دل میں شعلہ زن
دیوار و در کو مجھ سے سنوارا نہیں گیا

مانگی نہیں ہے میں نے کبھی بھیک میں وفا
مجھ سے کبھی ضمیر کو ہارا نہیں گیا

چھپ جائیں جس کی تہہ میں کئی بد نما نقوش
وہ روپ مجھ سے شہر میں دھارا نہیں گیا

زریؔاب پھر کسی کی تمنا نہیں رہی
پھر دل میں کوئی شخص اتارا نہیں گیا

ہاجرہ نور زریاب آکولہ مہاراشٹر انڈیا

+919922318742

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram