غزل

یہ تو ہوا بکھر گئے چند ادھر ادھر چراغ
تند ہوا کے سامنے چلتے رہے مگر چراغ

بڑھنے لگی جو شام سے شہر میں تیرگی بہت
میں نے جلا کے رکھ دئے پھر سر رہ گزر چراغ

چادر ہجر اوڑھ کر رشتہء جاں نچوڑ کر
کس کے یہ انتظار میں جلتے ہیں رات بھر چراغ

طوفان کی زد میں ہیں سبھی فانوس بھی نہیں کوئ
کس کی دعائے خیر سے جلتے ہیں بے خطر چراغ

مصحف رخ پہ ہے نقاب پھر بھی ہو جیسے آفتاب
آگیا کون بزم میں ہو گئے بے اثر چراغ

تو ہی رفیق و یار ہے ہمدم و غم گسار ہے
ساتھ مرا نہ چھوڑنا اے مرے ہم سفر چراغ

سب کو نصیب ہی کہاں فاروق اب بلندیاں
طائر فکر ہیں مرے رکھتے ہیں زیر پر چراغ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram