غزل

گلستاں چھوڑ کے صحرا کی طرف چل نکلا
یہ کہاں لے کے چلا دل مرا پاگل نکلا
کل وہ سنجیدؤ با ظرف نظر آیا تھا
آج دیکھا جو اسے میں نے تو چنچل نکلا
جب کوئی مُجھ سے سروکار نہیں ہے پھر کیوں
آپ کی سرمگیں آنکھوں سے یہ کاجل نکلا
یہ کہیں ضبطِ مَحبّت کا نتیجہ تو نہیں
آج کیوں دل سے دھواں میرے مسلسل نکلا
میری رنگین غزل سن کے مخالف بولے
شعر کہنے میں تو فرمان مکمّل نکلا

فرمان ضیائی ( سرونج) ایم پی
9826777357

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest