عشق کے اظہار کی باتیں کریں

آؤ ہم تم پیار کی باتیں کریں

عشق کا اپنے عجب انداز ہے
جیت کر بھی ہار کی باتیں کریں

اللہ اللہ ان کو اس درجہ غرور
جب کریں تکرار کی باتیں کریں

آدمیت تک نہیں جن کا شعار
مجھ سے وہ کردار کی باتیں کریں

پی رہی ہے مومنوں کا جو لہو
کیسے اس سرکار کی باتیں کریں

قید زنجیروں میں وہ کرکے ہمیں۔
ہم سے ہی جھنکار کی باتیں کریں

ہم ہیں مداحِ شہید کربلا
ہم حسینی وار کی باتیں کریں

ان کو “عنبر” کس طرح سمجھائیں ہم
جو گلوں سے خار کی باتیں

عارفہ مسعود عنبر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *