غزل

غزل

 

 

 

 

 

اپنی ضد پر اڑی ہوئی ہوں میں
ساتھ سچ کے کھڑی ہوئی ہوں میں

اب کسی سے مری نہیں بنتی
ہر کسی سے لڑی ہوئی ہوں میں

میں نے بچپن میں تجھکو چاہا تھا
خواب ہی میں بڑی ہوئی ہوں میں

درد محسوس ہی نہیں ہوتا
پتھروں سی گھڑی ہوئی ہوں میں؟

ہوگئی ہے تجھے غلط فہمی
راستے میں پڑی ہوئی ہوں میں

ناز… انگشتری عارف میں
مثل نیلم جڑی ہوئی ہوں میں
ناز عارف ناز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram