غزل

اُس کی آنکھوں سے جوجھتے آنسو
میں نے دیکھے ہیں بولتے آنسو

کیسے آنکھوں میں باندھ رکھو گے
ہجر کی شب میں کانپتے آنسو

راز کتنے چھپائے ہیں من میں
اُس کی پلکوں سے جھانکتے آنسو

کیسے تسلیم کر لیے جائیں
بے وفا تیرے واسطے آنسو

ابتداء عشق کی ہنساتی تھی
انتہا میں ہیں ٹوٹتے آنسو

انیتا موریا ( کانپور)
7860321066

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram