غزل

عشق ہوں اپنے ہیولے سے نکل آیا ہوں
رقص کرتا ہوا پردے سے نکل آیا ہوں

دے کے آواز بلاتا ہے مجھے اپنا پن
اور میں دور قبیلے سے نکل آیا ہوں

چند لمحے ذرا معمول سے ہٹ کر جی لوں
گھر سے باہر اس ارادے سے نکل آیا ہوں

جب کبھی تجھ سے بچھڑتا ہوں تو یوں لگتا ہے
کسی بندش، کسی وعدے سے نکل آیا ہوں

زندگی اب تجھے کرنا ہے ضیافت میری
میں’ ترا‘ دور کے رشتے سے نکل آیا ہوں

وقت نے بھی مری تحقیق میں پلٹے اوراق
میں بھی بوسیدہ رسالے سے نکل آیا ہوں

بزم میں ان کی سخن میں بھی گیاتھا لیکن
بِن بتائے ہوئے چپکے سے نکل آیا ہوں

عبدالوہاب سخن

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram