غزل

کیسی بیزاریاں ہیں مدت سے
ہم سے ملتا نہیں وہ چاہت سے

اب محبت نہیں وہ پہلی سی
کہہ دیا اس نے یہ صداقت سے

نقش ماضی کے مٹ گئے ہیں کیا
کیوں نہیں ملتے اب محبت سے

میرے اوصاف سب بھلا بیٹھے
جوڑتے ہیں مجھے وہ تہمت سے

مجھ میں خوشبو ہے مشک و عنبر سی
“دوست واقف ہیں میری قیمت سے”

عارفہ مسعود عنبر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram