غزل

عشق کی میں گنہگار نہیں
ان صفوں میں مرا شمار نہیں

جانے والا تو یاد آتا ہے
کیا کروں دل پہ اختیار نہیں

بات کا گھاؤ ہے ہرا اب بھی
تیر سینے کے آر پار نہیں

کر لیا صبر اور سمجھ بھی گئی
کوئی میرا ہی غم گسار نہیں

تلخ لہجے کی ہو گئی عادت
بات اب اس کی ناگوار نہیں

زندگی میں ترے کرم کے طفیل
اتنے غم ہیں کہ کچھ شمار نہیں

خاکِ صحرا جب اوڑھ لی عنبر
راہ میں اب کوئی غبار نہیں

عارفہ مسعود عنبر مراداباد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest