غالب اسٹڈی سینٹر ابن سینا اکیڈمی علی گڑھ کی جانب سے شعری نشست کا انعقاد

مجھ کو شب وصال میسر تو ہے      مگر دل میں فراق یار کا کھٹکا ابھی سے ہے

علی گڑھ
معروف شاعرنوشہ اسرارؔمقیم ہیوسٹن امریکہ ٹکساس کی علی گڑھ آمد پر غالب اسٹڈی سینٹر ابن سینا اکیڈمی علی گڑھ کی جانب سے ابن سینا اکیڈمی میں ایک اعزازی شعری نشست کا انعقاد عمل میں آیا۔جس کی صدارت پدم شری حکیم سید ظل الرحمان نے کی۔مہمان خصوصی کے طور پرپروفیسر سہیل صابرموجود رہے جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شارق عقیل نے بحسن و خوبی انجام دئیے۔نشست کا آغاز صبیحہ سنبل نے نعت سرور کونین سے کیا۔ اس موقع پر پڑھے گئے منتخب اشعار مندرجہ ذیل ہیں:
ایک کمزور دئیے نے تو اجالا بخشا
دیکھنا یہ ہے اجالے نے کسے کیا بخشا
نوشہ اسرار
مجھ کو شب وصال میسر تو ہے مگر
دل میں فراق یار کاکھٹکا ابھی سے ہے
انجینئر خالدؔ فریدی
تحریر کر رہی ہے مری داستاں مجھے
میں کر رہا ہوں اپنی کہانی ترے سپرد
راحتؔ حسن
ہر سمت نفرتوں کی ہیں فصلیں اگی ہوئی
یہ رہبران وقت عجب بیج بو گئے
صبیحہ سنبلؔ
چلو آج ہنس کر دیکھتے ہیں
شکست غم کے منظر دیکھتے ہیں
انجمؔ بدایونی
رغبت ہماری آپ سے حد درجہ بڑھ گئی
ہم اپنے آپ ہی سے بہت دور ہوگئے
تفسیربشرؔ
خود بدلتارہا راستوں کی طرح
منزلوں کا جو مجھ کو پتہ دے گیا
شگفتہ یاسیمین مہکؔ
پڑھ رہا تھا جب بنا چشمے کے میں اپنا کلام
صاف لکھا تھا بہتّر جس کو بہتر پڑھ گیا
کلیم ثمرؔ بدایونی
فنکار بنا سکتا ہے صحرا کو سمندر
ہم سے تو بہنانے بھی بنانے نہیں آتے
احمدرئیسؔ
اس کے ہاتھ میں روزی ہے سب کی اے شاکرؔ
ہر آدمی کا خدا انتظام کرتا ہے
شاکرؔ علی گڑھی
شرکاء میں مرزا اطہر بیگ،محمد سعید خاں،قیصر زیدی،ڈاکٹر ضیاالرحمان،سید تصور حسین،کلیم تیاگی،افشاں ملک،نفیس احمد،مہر الٰہی اور ڈاکٹر محسن رضا پیش پیش رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *