غزل

طوفان سے مت ڈرنا تم چھائے ہوئے رہنا
جذبات کی دنیا کو گرمائے ہوئے رہنا
پردے کی حدوں سے تم باہر نہ کبھی آنا
احکامِ شریعت کو اپنائے ہوئے رہنا
جذبات پہ قابو کا یہ اچھا طریقہ ہے
بس اپنی طبیعت کو بہلائے ہوئے رہنا
یہ صبر و قناعت کا گر جان لیا جائے
ہر ایک تمنا کو ترسائے ہوئے رہنا
غیروں نے محبت کا انعام دیا لیکن
اپنوں کی نگاہوں میں ٹھکرائے ہوئے رہنا
کس درجہ تھی شیرینی، ہمدم تری باتوں میں
ہے یاد مرے دل کو، الجھائے ہوئے رہنا
کچھ خوف نہیں اے دل، زریاب کو آتا ہے
موجوں میں بھی کشتی کو تیرائے ہوئے رہنا

ہاجرہ نور زریاب
آکولہ مہاراشٹر انڈیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram