غزہ: اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے دو فلسطینی جاں بحق، لاکھوں کا احتجاج

گزشتہ برس فلسطینی شہریوں کے پُر امن احتجاج کے دوران اسرائیلی جارحیت سے جاں بحق ہونے والوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے غزہ پٹی پر اسرائیلی سرحد کے نزدیک ایک مرتبہ پھر لاکھوں افراد جمع ہوگئے۔گریٹ مارچ ریٹرنز کے نام سے ہونے والے اس مظاہرے میں لاکھوں کی تعداد میں افراد شریک تھے، تاہم غزہ کے شعبہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اب تک اس مظاہرے میں بھی 2 فلسطینی شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے ایک شخص سرحد کے نزید علی الصبح شہید ہوا، جبکہ دوسرا 17 سالہ نوجوان دوپہر کے وقت اسرائیلی فائرنگ کا نشانہ بنا۔تاہم فلسطینی شہریوں نے اپنا بچاؤ کرتے ہوئے اسرائیل کے مسلح فوجیوں پر پتھر پھینکنے کی کوشش کی۔مظاہرین اسرائیل کی جانب سے لگائی گئی سیکیورٹی پابندی اٹھانے اور انہیں ان کے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے رہے۔خیال رہے کہ فلسطینی عوام 1948 میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد سے اب تک اپنی زمین پر قبضے اور وہاں سے زبردستی نکالے جانے پر احتجاج کرتے رہے ہیں جبکہ وہ اپنے آباؤ اجداد کی زمین واپس کرنے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔اسرائیلی فورسز نے اعتراف کیا کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ سرحدی علاقے میں جمع ہوئے لیکن زیادہ تر سرحد سے دور ہی تھے۔انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ شدید بارش کے باوجود فلسطینیوں کی تعداد معمول کے مظاہروں سے بہت زیادہ تھی۔فلسطینی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ 17 افراد اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ سے زخمی ہوئے۔خیال رہے کہ گزشتہ برس 30 مارچ کو ہی اسرائیلی فورسز کی پُر امن احتجاج کرنے والے نہتے فلسطینیوں پر اسرائیل نے گولیاں برسا دیں تھی جس کے نتیجے میں 2 سو سے زائد فلسطینی شہید جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے۔ادھر اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے ایک سال ہونے سے قبل غزہ سے ان کے فوجیوں پر راکٹ حملہ کیا گیا جس میں 7 فوجی زخمی ہوئے تاہم اس کے بعد تل ابیب نے فلسطینیوں پر فضائی حملے کیے اور اپنی فوج سرحد پر لگادی۔واقعے کے 12 ماہ بعد مصری ثالث دونوں ممالک کے درمیان مزید تصادم کو رکوانے کی کوششیں کر رہے ہیں، جبکہ اسرائیل پر زور دے رہے ہیں کہ وہ غزہ پر لگائی جانے والی پابندیوں کو اٹھا لے۔انسانی حقوق کے ادارے اسرائیلی پابندی کو غزہ میں بڑھتی ہوئی غربت کا اہم جزو قرار دیتے ہیں، جہاں 20 لاکھ سے زائد فلسطینی محصور ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest