گاندھی جی نے سب سے زیادہ زور نفرت ،تشدد،انارکی اورشدت ودہشت کے خاتمے پردیا :منیش سسودیا

اردو اکادمی کے زیر اہتمام بابائے قوم مہاتماگاندھی کی ۱۵۰ویں سالگرہ کے جشن کی مناسبت سے داستان گوئی اور اردو ڈرامے کی پیش کش

نئی دہلی :اردو اکادمی کے زیر اہتمام بابائے قوم مہاتماگاندھی کی ۱۵۰ویں سال گرہ کے جشن کی مناسبت سے سری رام سینٹر ،منڈی ہاوس ،نئی دہلی میں داستان گوئی کاپروگرام بعنوان ’داستانِ مہاتما‘اورڈاکٹر ایم۔سعیدعالم کی ہدایت کاری میں اردو ڈراما ’موہن سے مہاتما‘پیش کیا گیا ۔اس موقع پرمہمان خصوصی کے طورپردہلی کے نائب وزیراعلی ووزیرفن ،ثقافت اور السنہ نے کہاکہ گاندھی جی کی شخصیت اتنی عظیم اور بلندوبالا ہے کہ ان کی زندگی کو پیش نظر رکھ کر ہرہندوستانی کو جینا چاہئے ۔گاندھی جی کسی مخصوص پارٹی یا گروہ کے نہیں پورے ہندوستان اور تمام ہندوستانیوں کے لیڈر تھے ۔آج جس طرح کی سیاست جاری ہے،وہ گاندھی جی کے پیغامات اور ان کی سیاسی زندگی سے میل نہیں کھاتی ۔گاندھی جی نے سب سے زیادہ زور نفرت ،تشدد،انارکی اورشدت ودہشت کے خاتمے پردیا ہے ۔اردو اکادمی ایسے ہر موقع پر اتنے عمدہ اورثقافتی پروگرام منعقد کرتی ہے،جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ملک کو آج ایسے پروگراموں کے انعقاد کی اشدضرورت ہے ،جسے اردو اکادمی بخوبی سمجھ رہی ہے اور اپنی ذمہ داری کی ادائیگی میں مصروف عمل ہے ۔گاندھی جی نے ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان محبت واخوت کوعام کیا ۔ہندوستان کی کسی قوم کے ساتھ تفریق نہیں کی ۔سب کو ساتھ لے کر چلے اور سب کے ساتھ چلے۔یہی وجہ ہے کہ عظیم ہندوستان کے خواب کو وہ زمین پر اتارسکے اورانگریزی حکومت کا خاتمہ یقینی ہوسکا ۔ میں اردواکادمی کو پیش مبارک باد پیش کرتاہوں کہ اکادمی نے دہلی کے عوام کے لیے اتنا خوبصورت پروگرام منعقد کیا ۔
اردو اکادمی کے وائس چیئرمین پروفیسرشہپررسول نے اپنے خیرمقدمی کلمات میں کہا کہ بابائے قوم موہن داس کرم چندگاندھی ،جنھیں ہم احترام کے ساتھ مہاتماگاندھی کہتے ہیں ۔صرف ملک کے ہی نہیں اپنے عہد میں پوری دنیا کے بڑے لیڈروں میں تھے ۔دہلی اردو اکادمی اپنی وراثت کے تحفظ کے معاملے میں ہمیشہ سنجیدہ رہی ہے ۔یہ سال مہاتماگاندھی کی سالگرہ کا ۱۵۰واں برس ہے ۔اسی کے پیش نظر اکادمی کی جانب سے مختلف پروگراموں کا انعقادکیا جارہاہے ۔آج سے دو چار روز قبل گاندھی جی کی یاد میں ہم نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی یکجہتی مشاعرے کا انعقاد کیا تھا اور آج یہاں گاندھی جی کی یاد میں داستان گوئی اور ایک ڈراما بعنوان’ موہن سے مہاتما‘پیش کیا جائے گا ۔ان پروگراموں کا مقصد صرف پروگرام کا انعقاد نہیں ہے ۔ان پروگراموں کا اصل مقصد عوام کو گاندھی جی کے پیغامات سے روشناس کرانا اور ان کے اندر اخوت ومحبت اور بھائی چارے کے جذبے کو مہ میز کرنا ہے ۔ہمارا مقصدیہ بھی ہے کہ قوم کے بچے اور جوان گاندھی جی کو اچھی طرح جانیں اور انہیں سمجھیں اور ان کے پیغامات پر عمل بھی کریں ،جس طرح ایک ناقابل فراموش جبر وتشددکے قلعے کو گاندھی جی نے اپنی سوجھ بوجھ اور دانائی سے مسمار کیا ، وہ دنیا کی تاریخ میں ہر زمانے میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔عدم تشدد کا پیغام اور اس پر عمل آوری کوئی آسان کام اور بچوں کا کھیل نہیں ہے ۔گاندھی جی نے عظیم ہندوستان کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کیا۔مہاتما گاندھی جی جیسے عظیم لیڈرصدیوں میں پیداہوتے ہیں ۔یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ وہ ہمارے ملک میں پیدا ہوئے ،جن کا نام پوری دنیا ادب واحترام کے ساتھ لیتی ہے ۔
اردواکادمی ،دہلی کے سکریٹری ایس ایم علی نے تمام مہمانوں ،شرکا،فن کاروں اور سامعین کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ اردو اکادمی کی جانب سے بہت اچھے اچھے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں ،جس سے بلاتفریق تمام لوگ مستفید ہوتے ہیں ۔ہمارے لیے یہ خوشی کی بات ہے کہ سری رام سینٹر سامعین سے بھرا ہواہے ۔دہلی حکومت اکادمی کے پروگراموں کو سراہتی ہے اور بالخصوص نائب وزیراعلی منیش سسودیا تو اکثر پروگراموں میں پوری دلچسپی کے ساتھ شریک ہوتے ہیں ۔اس سے ہمارا حوصلہ بڑھتا ہے ۔فن کاروں نے اپنے پروگراموں کو اچھی طرح پیش کیا اور سامعین کو محظوظ کیا ۔میں آپ سب کا دل سے شکریہ ادا کرتاہوں کہ آپ اتنی بڑی تعداد میں شریک ہیں ۔
داستان گوسیدساحل آغانے داستان مہاتما پیش کی ۔انہوں نے اپنے پروگرام سے گاندھی جی کے اہنساکے پیغام کو عام کیا ،اس داستان میں خصوصی طورپرمہاتما گاندھی کے جذبۂ اخوت ومحبت ،قومی ہم آہنگی اورقومی یکجہتی کو پیش کیا ۔آزادی اور تقسیم کے وقت جانوں کے ضیاع کو بھی اس داستان میں موضوع بحث بنایا گیا تھا ۔اردوڈراما ’موہن سے مہاتما‘میں ایم سعید عالم سمیت تمام فن کاروں نے بہترین اداکاری کا مظاہرہ کیا۔آپ بیتی پرمبنی یہ ڈراماسامعین کو بہت پسندآیا۔اس ڈرامے میں چمپارن ستیہ گرہ کو خصوصی طورپرجگہ دی گئی تھی ۔اس پروگرام کی نظامت ریشمافاروقی نے کی ۔سری رام سینٹرمیں منعقد اس پروگرام میں دہلی کی معززشخصیات ،طلبہ وطالبات اور نوجوانوں نے شرکت کی ۔

۱۔ تصویر میں دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ جناب منیش سسودیا ناظرین سے خطاب کرتے ہوئے۔
۲۔ ڈراما ’’موہن سے مہاتما‘‘ کا ایک منظر
۳۔ ڈراما ’’موہن سے مہاتمام‘‘ کے اختتام پر نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا اور پروفیسر شہپر رسول ڈرامے کے اداکاروں کے ساتھ۔
۴۔ داستان گو سید ساحل آغا ’’داستانِ مہاتما‘‘ پیش کرتے ہوئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest