غزل

بھنور میں درد کے الجھی ہے زندگانی کیا
رکی ہوئ ہے کہیں عشق کی روانی کیا

نہ ٹھنڈکیں نہ حفاظت نہ کوئ دلجوئی
بغیر پتوں کے پیڑوں کی سائبانی کیا

یہ کیسے آ گئیں رسوائیاں مرے گھر تک
بتا دے مجھ کو کہ ہے تیری نگہبانی کیا

بھری ہیں اشکوں سے آنکھیں مگر ہے لب پہ ہنسی
غموں کے سائے میں رہتی ہے شادمانی کیا

عجیب بات ہے نظروں سے تم سمحھ نہ سکے
کریں زبان سے جذبوں کی ترجمانی کیا

ہے ساری بستی ہی پتھر مزاج لوگوں کی
کرے گی ان پہ اثر میری خوش بیانی کیا

یہ سوچتے ہیں کہ کھو جائیں غم کے طوفاں میں
جو ناؤ دل کی شکستہ ہو بادبانی کیا

نہ میر ہوں , نہ میں غالب، نہ ہوں جگرـ’مینا‘
غزل مری بھی کبھی ہوگی جاودانی کیا

ڈاکٹر مینا نقوی ..مراداباد..بھارت

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram